صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 352
صحیح البخاری جلد ۹ ۳۵۲ ۶۴ - کتاب المغازی سلمان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: آپ کا وصی کون ۔ آپ کا وصی کون ہے ؟ تو آپ نے فرمایا: وَصِی وَمَوْضِعُ سِرِى وَخَلِيفَتِي فِي أَهْلِي وَخَيْرُ مَنْ أُخْلِفُ بَعْدِى عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِب ۔ یعنی میرا وصی اور رازدار اور میرے اہل بیت میں میرا جانشین علی ہے اور وہی سب سے بہتر ہے جسے میں چھوڑے جا رہا ہوں۔ ابن جوزی نے اپنی کتاب الموضوعات میں انہی جعلی روایتوں کا ذکر کیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۱۸۸) بَاب ٨٥ : وَفَاةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ( کب ہوئی؟) ٤٤٦٤ - ٤٤٦٥ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ۴۴۶۴-۴۴۶۵: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي شيبان بن عبد الرحمن) نے ہمیں بتایا۔ انہوں سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ ني يحي (بن ابی کثیر) سے، بچی نے ابوسلمہ اللهُ عَنْهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ( بن عبد الرحمن) ہے، ابو ابوسلمہ نے حضرت عائشہ وَسَلَّمَ لَبِثَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ يُنْزَلُ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت عَلَيْهِ الْقُرْآنُ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرًا۔ کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دس سال رہے۔ قرآن آپ پر اترتا رہا اور مدینہ میں بھی طرفه ٤٩٧٨ دس سال رہے۔ ٤٤٦٦ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۴۴۶۶ : عبد اللہ بن یوسف (تیسی) نے ہم سے حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ بیان کیا کہ لیث (بن سعد ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ نے عقیل سے عقیل نے ابن شہاب سے، ابن عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ شہاب نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے حضرت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ۔ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ صلی اللہ علیہ وسلم جب فوت ہوئے تو آپ وَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ مِثْلَهُ۔ تریسٹھ (۱۳) برس کے تھے۔ ابن شہاب نے کہا: طرفه ٣٥٣٦- اور سعید بن مسیب نے بھی مجھے ایسا ہی بتایا۔ ا الموضوعات لابن الجوزی کتاب الفضائل والمناقب، جزء اول صفحه ۳۷۴)