صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 25
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۵ ۶۴ - کتاب المغازی فَنَحْنُ أَحَقُّ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى الله نے کہا: اسماء عمیس کی بیٹی۔ حضرت عمرؓ نے کہا: واہ ! عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكُمْ فَغَضِبَتْ وَقَالَتْ یہ حبشہ سے لوٹنے والی ہے، سمندر کا سفر کر کے シ كَلَّا وَاللَّهِ كُنتُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ا آنے والی۔ اسماء بولیں: ہاں۔ حضرت عمر نے کہا: ہم يُطْعِمُ جَائِعَكُمْ وَيَعِظُ جَاهِلَكُمْ وَكُنَّا تم سے پہلے ہجرت کر کے آئے آئے ہیں، اس لئے صد الله س رسول اللہ صلی العلیم پر ہمارا زیادہ حق ہے۔ (یہ سن کر ) صا الله علیہم فِي دَارِ أَوْ فِي أَرْضِ الْبُعَدَاءِ الْبُغَضَاءِ وہ ناراض ہو گئیں اور کہنے لگیں: اللہ کی قسم ! ہرگز بِالْحَبَشَةِ وَذَلِكَ فِي اللهِ وَفِي رَسُولِهِ نہیں۔ تم لوگ رسول اللہ صلی الم کے ساتھ تھے۔ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَايْمُ اللهِ لَا الحضور سی نیم تم میں سے بھوکے کو کھلاتے اور أَطْعَمُ طَعَامًا وَلَا أَشْرَبُ شَرَابًا حَتَّى جاہل کو وعظ کرتے اور ہم اجنبی دشمنوں کے گھر میں یا أَذْكُرَ مَا قُلْتَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ (کہا) ملک میں یعنی حبشہ میں تھے اور یہ ہمارا قیام عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ كُنَّا نُؤْذَى وَنُخَافُ اللہ اور اس کے رسول صلی علیم کی خاطر تھا۔ اللہ کی ! وَسَأَذْكُرُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ قسم انہیں کھانا نہیں کھاؤں گی اور نہ پانی پیوں گی جب تک کہ جو بات آپ نے کہی ہے وہ رسول اللہ وَسَلَّمَ وَأَسْأَلُهُ وَاللهِ لَا أَكْذِبُ وَلَا أَزِيعُ ا سے کہ وَلَا أَزِيدُ عَلَيْهِ۔ صد الله سل می علوم سے کہہ لوں اور ہمیں تو دُکھ دیا جاتا تھا اور خوف کا سامنا رہتا اور نبی صلی العلیم سے میں یہ ذکر ضرور کروں گی اور آپ سے پوچھوں گی۔ اللہ کی قسم ! جھوٹ نہ بولوں گی اور نہ ادھر اُدھر کی بات کہوں گی اور نہ اپنی طرف سے کچھ بڑھاؤں گی۔ أطرافه : ۳۱۳۶ ، ۳۸۷۶ ، ۴۲۳۳۔ ٤٢٣١: فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ ۴۲۳۱: جب نبی صلی اللہ ایم آئے، علی کم آئے، حضرت اسماء کہنے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ عُمَرَ لگیں: اللہ کے نبی! عمرؓ نے ایسا ایسا کہا ہے۔ آپ قَالَ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَمَا قُلْتِ لَهُ نے پوچھا: تم نے کیا جواب دیا؟ حضرت اسماء نے کہا: میں نے ان سے ایسا ایسا کہا ہے۔ آپؐ نے قَالَتْ قُلْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا قَالَ لَيْسَ فرمایا: مجھ پر تم سے بڑھ کر کسی کا حق نہیں اور عمر کی بِأَحَقَّ بِي مِنْكُمْ وَلَهُ وَلِأَصْحَابِهِ هِجْرَةٌ اور عمر کے ساتھیوں کی تو ایک ہی ہجرت ہے اور وَاحِدَةٌ وَلَكُمْ أَنْتُمْ أَهْلَ السَّفِينَةِ تم یعنی جہاز والوں کی دو ہجرتیں ہیں۔ حضرت اسماء