صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 267
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۶۷ ۶۴ - کتاب المغازی تشریح : قِصَّةُ أَهْلِ نَجْرَانَ : وفد نجران کی آمد کا مفصل ذکر طبقات کبری ابن سعد میں ہے۔ وفد کی تعداد چودہ کسی بیان کی گئی ہے۔ ان میں عاقب اور سید ایم نام کے عیسائی راہبوں کا بھی ذکر ہے جو نجرانی عیسائیوں کے سردار تھے۔ عاقب امیر وفد تھا اور مشیر کار جس کی رائے کے بغیر وہ فیصلہ نہیں کرتے تھے اور ابو حارث بن علقمہ ان کا راہب اور حبر عالم دین و امام) اور سید اور خبر (عالم دین و امام) اور سید منتظم امور۔ عاقب کا نام عبد المسیح تھا۔ اس وفد کے دوران قیام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مذہبی تبادلہ خیال ہوتا رہا۔ یہ عیسائی مسجد نبوی ہی میں بلا روک ٹوک مشرق کی طرف منہ کر کے اپنی نماز ادا کرتے رہے۔ آخر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائے مباہلہ تجویز فرمائی۔ اس دعا کا ذکر سورہ آل عمران: ۶۱، ۶۲ میں ہے۔ جس کے لئے رؤسائے وفد نے مہلت طلب کی۔ آخر اہل الرائے نے مشورہ دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مباہلہ نہ کیا جائے۔ اگر کیا گیا تو مباہلہ کا انجام بخیر نہیں۔ یہ وفد صلح نامہ طے کر کے واپس چلا گیا۔ جس کی رو سے دو ہزار یمنی جوڑے، ہر جوڑے کے ساتھ چاندی کا ایک اوقیہ اور یمن میں جنگ ہونے کی صورت میں تیس زر ہیں، تیس نیزے، تیس اونٹ اور تیس گھوڑے عاریتاً ادائیگی کا فیصلہ ہوا۔ چاندی سمیت دو ہزار جوڑے دو قسطوں میں ۔ ایک ہزار رجب میں اور ایک ہزار صفر میں اور اس کے بالمقابل نجران کے جان و مال و عزت اور مذہب و ملت اور عبادت خانوں کی حفاظت آنحضرت صلی اللہ علم کے ذمہ ٹھہری اور اس معاہدہ صلح میں ان الفاظ میں صراحت کی گئی ہے : لَا يُغَيَّرُ اسْقُفُ عَنْ سَقِيفَاهُ وَلَا رَاهِبْ عَنْ رَهْبَانِيَّتِهِ وَلَا وَاقِفُ عَنْ وَقُفَانِيَّتِهِ کوئی لاٹ پادری یا راہب یا واقف اپنے حلقے اور وقف سے تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ اس معاہدے پر گواہوں کے دستخط ہوئے۔ جن میں حضرت ابو سفیان بن حرب، حضرت اقرع بن حابس اور حضرت مغيرة بن شعبہ کے دستخط ہوئے۔ وفد نجران معاہدہ صلح طے کر کے یمن واپس چلا گیا اور اس کے بعد جلد ہی سید اور عاقب مدینہ لوٹے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت اسلام کی۔ اس موقع پر وہ حضرت ابو ایوب انصاری کے ہاں بطور مہمان ٹھہرائے گئے۔ اہل نجران کے ساتھ مذکورہ بالا معاہدہ کے مطابق آنحضرت صلی علی ایم کی وفات کے بعد بھی عہد خلافت میں عمل درآمد ہوتا رہا اور ان میں سے مسلمان کا فرض قرار دیا گیا کہ وہ ہر مظلوم کی مدد کرے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۱۱۸، ۱۱۹) یہ خلاصہ ہے طبقات کبری ابن سعد کے ، بیان کا۔ اس میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اساقفہ نجران کو خط لکھا اور انہیں اسلام کی دعوت دی تھی۔ اس خط کی اصل عبارت الوثائق السیاسیة، وثیقه نمبر ۹۳ میں درج ہے جو مختصر ہے ! رہے اور اس کا مضمون دیگر تبلیغی خطوط کے مضمون کی طرح ہے ہے اور آپ نے ایک خط ابو حارث بن علقمہ اسقف نجران کی طرف بھی بھیجا۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدِ النَّبِيِّ ا الطبقات الكبرى لابن سعد، ذکر وفادات العرب، وفد نجران، جزء اول صفحه ۲۶۷، ۲۶۸) ( الوثائق السياسية، نمبر ٩٣: دعوته أساقفة نجران، صفحه ۱۷۴)