صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 268 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 268

صحیح البخاری جلد ۹ ۲۶۸ ۶۴ - کتاب المغازی إِلَى الْأَسْقُفِ أَبي الحَارِثِ وَاَسَاقِفَةُ نَجْرَاتٍ وَكَهْلَتِهِمْ وَمَنْ تَبِعَهُمْ وَرُهْبَانِهِمْ - إِنَّ لَهُمْ مَا تَحْتَ أَيْدِيهِمْ مِنْ قَلِيْل وَكَثِيرٍ مِنْ بِيَعِهِمْ وَصَلَوَاتِهِمْ وَرَهْبَانِيَّتِهِمْ وَجَوَارُ اللَّهِ وَرَسُوْلِهِ- لَا يُغَيَّرُ أَسْقُفُ مِنْ اسْقُفِيَّتِهِ وَلَا رَاهِبٌ مِنْ رَهْبَانِيَتِهِ وَلَا كَاهِنُ مِنْ كَهَانَتِهِ وَلَا يُغَيَّرُ حَقٌّ مِنْ حُقُوقِهِمْ وَلَا سُلْطَانِهِمْ وَلَا شَيْيٌّ مِمَّا كَانُوا عَلَيْهِ - [ عَلَى ذَلِكَ جَوَارُ اللهِ وَرَسُولِهِ اَبَدًا مَا نَصَحُوا وَاصْطَلَحُوْا فِيْمَا عَلَيْهِمْ غَيْرَ مُثْقَلِينَ بِظُلْمٍ وَلَا ظَالِمِينَ اس خط کا مضمون مفہوم وہی ہے جس کا ذکر طبقات بن سعد میں ہے۔اور اس دعوت پر وفد نجران مدینہ میں بغرض تحقیق و فیصلہ آیا۔امام بخاری نے قصَّةُ أَهْلِ نَجْرَات قائم کر کے اس کے تحت تین روایتیں نقل کی ہیں جو مختصر ہیں اور ان میں تین باتیں مذکور ہیں:۔عاقب و سید سرداران نجران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت مباہلہ پر آئے۔آخر اُن کی رائے قرار پائی کہ دعائے مباہلہ کا نتیجہ ان کے حق میں اچھا نہیں ہو گا۔اور انہوں نے ایک امین شخص کے روانہ کرنے کا مطالبہ کی اور آپ نے حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کو اُن کے ساتھ بھیجا۔طبقات ابن سعد کے بیان میں حضرت ابو عبیدہ کا ذکر نہیں اور سیرت ابن ہشام بھی اس بارے میں خاموش ہے۔البتہ اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے متعلق ذکر ہے کہ وہ تحصیل زکوۃ کی غرض سے نجران بھیجے گئے تھے۔حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ مشروط معاہدہ صلح کی تنفیذ کے لئے بھیجے گئے تھے۔وہاں سے حسب معاہدہ اموال لائے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۱۱۹) باب ۷۳: قِصَّةُ عُمَانَ وَالْبَحْرَيْنِ عمان اور بحرین کا واقعہ ٤٣٨٣ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۴۳۸۳ ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ سَمِعَ ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ہمیں سفیان بن عیینہ ) نے بتایا کہ ( محمد ) بن منکدر نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا سنا۔وہ کہتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے يَقُوْلُ قَالَ لِي رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ مجھے فرمایا: اگر بحرین کا مال آگیا تو میں تمہیں اس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ قَدْ جَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْن اس طرح تین دفعہ ) دوں گا۔پھر بحرین کا مال نہ ( الوثائق السياسية، نمبره : لأبي الحارث بن علقمة أسقف نجران، صفحه ۱۷۹) السيرة النبوية لابن هشام، خروج الأمراء والعمال على الصدقات، جزء ۲ صفحہ ۶۰۰)