صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 207
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۰۷ ۶۴ - کتاب المغازی ٤٣٤٧ : حَدَّثَنِي حِبَّانُ أَخْبَرَنَا ۴۳۴۷ حبان (بن موسیٰ) نے مجھ سے بیان کیا کہ عَبْدُ اللَّهِ عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ عبد الله بن مبارک) نے ہمیں خبر دی کہ زکریا بن ہے۔ زکریا نے یحی بن عبد الله بن يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِي عَنْ أَبِي اسحاق سے روایت ہے ۔ صیفی سے، بچی نے حضرت ابن عباس کے آزاد کردہ مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ غلام ابو معبد سے، ابو معبد نے حضرت ابن عباس رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَسُوْلُ اللهِ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا:) عبد الله سے جب صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رسول اللہ صلی علیم نے حص نے حضرت معاذ بن جبل سے حِيْنَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ إِنَّكَ سَتَأْتِي آپؐ نے اُن کو یمن کی طرف بھیجا، فرمایا: تم عنقریب قَوْمًا مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَإِذَا جِئْتَهُمْ ایسے لوگوں کے پاس جاؤ گے جو اہل کتاب ہیں۔ جب تم اُن کے پاس پہنچو تو انہیں اس بات کی دعوت دو کہ فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لَّا إِلَهَ وہ یہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللهِ فَإِنْ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں هُمْ أَطَاعُوْا لَكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ تو پھر انہیں یہ بتاؤ کہ اللہ نے اُن پر دن رات میں پانچ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ نمازیں مقرر کی ہیں۔ اگر وہ تمہاری بات مان لیں پھر فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا انہيں بتاؤ کہ اللہ نے اُن پر صدقہ مقرر کیا ہے ، جو اُن کے دولت مندوں سے لیا جائے اور ان کے محتاجوں لَكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ کو لوٹا دیا جائے۔ پھر اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ تو خبر دار اُن کے عمدہ عمدہ مال صدقہ میں نہ لینا (بلکہ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا در میانه درجہ کا لینا) اور مظلوم کی پکار سے بچنا۔ اس لَكَ بِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ لئے کہ اُس کے اور اللہ کے درمیان کوئی روک نہیں وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ ہوتی ۔ ابو عبد الله (امام بخاری) نے کہا: (سورہ مائدہ وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ میں جو فَطَوَّعَتْ لَهُ نَفْسُہ آیا ہے) اس میں طَوَّعَتْ کے معنی طاعت اور اطاعت کے ہیں یعنی اُس نے طَوَّعَتْ : طَاعَتْ وَأَطَاعَتْ لُغَةٌ طِعْتُ فرمانبرداری اختیار کی۔ اور عربی زبان میں اس طرح وَطُعْتُ وَأَطَعْتُ۔ بھی استعمال ہوتا ہے طِعْتُ وَطُعْتُ وَأَطَعْتُ (سب کے معنی ایک ہی ہیں۔) أطرافه ١٣٩٥ ، ١٤٥٨، ١٤٩٦ ، ٢٤٤٨ ، ٧٣٧١ ، ٧٣٧٢۔