صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 206
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۰۶ ۶۴ - کتاب المغازی ٤٣٤٦ : حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ۴۳۴۶ : عباس بن ولید جو نرسی ہیں انہوں نے هُوَ النَّرْسِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ عَنْ مجھ سے بیان کیا کہ عبدالواحد (بن زیاد) نے أَيُّوبَ بْنِ عَائِذٍ حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب بن عائذ سے روایت مُسْلِمٍ قَالَ سَمِعْتُ طَارِقَ بْنَ شِهَابٍ کی کہ قیس بن مسلم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں يَقُوْلُ حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ نے کہا: میں نے طارق بن شہاب سے سنا۔ وہ کہتے رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ تھے: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَرْضِ مجھ سے بیان کیا، کہا: رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے مجھے میری قوم کے ملک کی طرف (حاکم بنا کر ) قَوْمِي فَجِئْتُ وَرَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ بھیجا۔ میں وہاں سے لوٹ کر آیا اور رسول اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنِيخٌ بِالْأَبْطَحِ فَقَالَ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت البلح (مخصب) میں أَحَجَجْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ قُلْتُ اُترے ہوئے تھے۔ آپ نے پوچھا: عبدالله نَعَمْ يَا رَسُوْلَ اللهِ قَالَ كَيْفَ قُلْتَ بن قیس ! تم نے حج کی نیت کی ہے ؟ میں نے کہا: قَالَ قُلْتُ لَبَّيْكَ إِهْلَالًا كَاهْلَالِكَ جی ہاں یا رسول اللہ ! آپ نے پوچھا: تم نے کس قَالَ فَهَلْ سُفْتَ مَعَكَ هَدْيًا قُلْتُ طرح نیت کی تھی؟ کہتے تھے: میں نے کہا: اس لَمْ أَسُ قَالَ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَاسْعَ احرام کے ساتھ لبیک کہتا ہوں جس نیت سے بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حِلَّ فَفَعَلْتُ آپؐ نے احرام باندھا۔ آپؐ نے پوچھا: کیا تم حَتَّى مَشَطَتْ لِي امْرَأَةٌ مِنْ نِّسَاءِ اپنے ساتھ کوئی قربانی لائے ہو ؟ میں نے کہا: کوئی بَنِي قَيْسٍ وَمَكُفْنَا بِذَلِكَ حَتَّى قربانی نہیں لایا۔ آپؐ نے فرمایا: پھر تم بیت اللہ کا طواف کرو اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرو اور اسْتُخْلِفَ عُمَرُ۔ پھر اس کے بعد احرام کھول ڈالو۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ اور بنی قیس کی عورتوں میں سے ایک عورت نے مجھے کنگھی کی اور ہم اس وقت تک اسی طریقہ أطرافه ١٥٥٩، ١٥٦٥، ۱۷۲٤، ۱۷۹۵، ۱۳۹۷ پر رہے کہ حضرت عمر خلیفہ ہوئے۔