صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 206 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 206

صحیح البخاری جلد ۹ ۲۰۶ ۶۴ - کتاب المغازی ٤٣٤٦ : حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ :۴۳۴۶ عباس بن ولید جو نرسی ہیں انہوں نے هُوَ النَّرْسِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ عَنْ مُجھ سے بیان کیا کہ عبد الواحد (بن زیاد) نے أَيُّوْبَ بْن عَائِذٍ حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب بن عائذ سے روایت مُسْلِمٍ قَالَ سَمِعْتُ طَارِقَ بْنَ شِهَابٍ کی کہ قیس بن مسلم نے ہم سے بیان کیا۔انہوں يَقُوْلُ حَدَّثَنِي أَبُوْ مُوْسَى الْأَشْعَرِيُّ نے کہا: میں نے طارق بن شہاب سے سنا۔وہ کہتے اللهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي رَسُوْلُ اللهِ تھے: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَرْضِ مجھ سے بیان کیا، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قَوْمِي فَجِئْتُ وَرَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّه نے مجھے میری قوم کے ملک کی طرف (حاکم بنا کر ) رَضِيَ نَعَمْ يَا رَسُوْلَ اللهِ قَالَ كَيْفَ قُلْتَ بھیجا۔میں وہاں سے لوٹ کر آیا اور رسول اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنِيْخٌ بِالْأَبْطَحِ فَقَالَ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت الصلح (مخصب) میں أَحَجَجْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ قُلْتُ اترے ہوئے تھے۔آپ نے پوچھا: عبد اللہ بن قیس! تم نے حج کی نیت کی ہے ؟ میں نے کہا: قَالَ قُلْتُ لَبَّيْكَ إِهْلَالًا كَإِهْلَالِكَ جی ہاں یا رسول اللہ ! آپ نے پوچھا: تم نے کس قَالَ فَهَلْ سُقْتَ مَعَكَ هَدْيًا قُلْتُ طرح نیت کی تھی؟ کہتے تھے: میں نے کہا: اس لَمْ أَسُقَّ قَالَ فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَاسْعَ احرام کے ساتھ لبیک کہتا ہوں جس نیت سے بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حِلَّ فَفَعَلْتُ آپ نے احرام باندھا۔آپ نے پوچھا: کیا تم حَتَّى مَشَطَتْ لِي امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ اپنے ساتھ کوئی قربانی لائے ہو ؟ میں نے کہا: کوئی بَنِي قَيْسٍ وَمَكُفْنَا بِذَلِكَ حَتَّى قربانی نہیں لایا۔آپ نے فرمایا: پھر تم بیت اللہ کا طواف کرو اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرو اور اسْتَخْلِفَ عُمَرُ۔پھر اس کے بعد احرام کھول ڈالو۔میں نے ایسا ہی کیا۔اور بنی قیس کی عورتوں میں سے ایک عورت نے مجھے کنگھی کی اور ہم اس وقت تک اسی طریقہ پر رہے کہ حضرت عمر خلیفہ ہوئے۔أطرافة: ١٥٥٩، ١٥٦٥، 17٢٤، 1795، 4397۔