صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 208 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 208

صحیح البخاری جلد ۹ ۲۰۸ ۶۴ - کتاب المغازی ٤٣٤٨ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ :۴۳۴۸ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَبِيْبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حبیب بن ابی عَنْ سَعِيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ ثابت سے، حبیب نے سعید بن جبیر سے ، سعید اللهُ عَنْهُ لَمَّا نے عمرو بن میمون سے روایت کی کہ حضرت معاذ مَيْمُوْنِ أَنَّ مُعَاذَا أَنَّ مُعَاذَا رَضِيَ قَدِمَ الْيَمَنَ صَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ فَقَرَأَ رضى اللہ عنہ جب یمن میں آئے تو انہوں نے لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی اور یہ آیت پڑھی: ابراہیم کو اللہ نے (اپنا) محبوب دوست بنایا۔یہ " وَاتَّخَذَ اللهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا" فَقَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْقَوْمِ لَقَدْ قَرَّتْ عَيْنُ سن کر لوگوں میں سے ایک شخص بول پڑا: تب تو ابراہیم کی ماں کی آنکھ ٹھنڈی ہوگئی ہوگی۔أُمَ إِبْرَاهِيمَ۔زَادَ مُعَاذْ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ حَبِيْبِ معاذ نے شعبہ سے، شعبہ نے حبیب سے، عَنْ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ حبیب نے سعید سے، سعید نے عمرو بن میمون) صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذَا إِلَى سے اتنا زائد بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے الْيَمَنِ فَقَرَأَ مُعَادٌ فِي صَلَاةِ الصُّبْح حضرت معاذ کو یمن کی طرف بھیجا اور حضرت سُوْرَةَ النِّسَاءِ فَلَمَّا قَالَ: وَاتَّخَذَ الله معاذ نے صبح کی نماز میں سورۂ نساء پڑھی۔جب ابرهيم خَلِيلًا (النساء : ١٢٦) قَالَ رَجُلٌ انہوں نے یہ کہا: ” وَ اتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا : تو ایک شخص پیچھے سے بولا : تب تو ابراہیم کی ماں کی خَلْفَهُ قَرَّتْ عَيْنُ أُمِّ إِبْرَاهِيمَ۔آنکھ ٹھنڈی ہو گئی ہو گی۔تشريح: بَعْثُ أَبِي مُوسَى وَمُعَاذٍ إِلَى الْيَمَنِ قَبْلَ حَجَةِ الْوَدَاعِ: اس باب میں جس مہم کی روانگی کا ذکر ہے وہ ادارتی و انتظامی نوعیت کی تھی۔فتح مکہ کے بعد تین قسم کی مہمیں اطراف مکہ میں قبائل عرب کی طرف بھیجی گئی تھیں۔ایک قسم کا تعلق فتح مکہ کے ثمرات سے فائدہ اُٹھانے اور صنم پرستی کے ادہام باطلہ کی بیخ کنی سے تھا، جن سے اشرف المخلوقات انسان اپنے خالق سے کٹ کر پجاریوں کی ہوس کا بندہ بن چکا تھا۔ان مہموں سے غرض ممکنت و استحکام اور پر آمن فضا پیدا کرنا بھی تھی۔دوسری قسم کی مہمیں دعوت و تعلیم اسلام سے متعلق تھیں۔یہ تبلیغی مہمیں وھ میں شروع ہوئیں۔جس کی وجہ سے نویں ہجری عام الوفود کے نام سے مشہور ہے۔تیسری قسم کی مہمیں انتظامی نوعیت کی تھیں۔یہ ہمیں حالات کے اختلاف کے پیش نظر غزوات، سرایا اور بعوث کے