صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 181 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 181

صحیح البخاری جلد ۹ ۱۸۱ ۶۴ - کتاب المغازی ٤٣٣٢ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۴۳۳۲ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسٍ کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوالتیاح قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ قَسَمَ يزيد بن حمید) سے، انہوں نے حضرت انس رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کی، کہا: جب مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ غَنَائِمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ فَغَضِبَتِ الْأَنْصَارُ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے درمیان غنیمتیں قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا تقسیم کیں۔ انصار ناراض ہو گئے۔ نبی صلی اللہ تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم پسند نہیں کرتے کہ لوگ دنیا لے کر جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وَتَذْهَبُوْنَ بِرَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ کو لے کر جاؤ؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ نے فرمایا: اگر لوگ ایک وادی یا (فرمایا:) پہاڑی وَسَلَّمَ قَالُوا بَلَى قَالَ لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ راستے میں چلیں تو میں انصار کی ہی وادی یا ان أَوْ شِعْبَهُمْ۔ کے راستے پر ہی چلوں گا۔ اطرافه: ۳۱٤٦ ، ۳۱۴۷، ۳۵۲۸، ۳۷۷۸، ۳۷۹۳، ۴۳۳۱، ٤۳۳۳، ٤٣٣٤، ٤٣٣٧، - ٥٨٦٠ ٦٧٦٢، ٧٤٤١ ٤٣٣٣ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۴۳۳۳ علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ أَنْبَأَنَا (کہا) از ہر (بن سعد سمان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (عبد اللہ ) بن عون سے، عبد اللہ نے هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ ہشام بن زید بن اس سے ، اس انس سے، انہوں نے حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے حُنَيْنِ الْتَقَى هَوَازِنُ وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى کہا: جب حسنین کا واقعہ ہوا تو ہوازن سے ہماری اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةُ آلَافٍ وَالطَّلَقَاءُ مُڈ بھیڑ ہوئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دس ہزار صحابہ تھے اور وہ لوگ بھی تھے جن فَأَدْبَرُوْا قَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ قَالُوا کو آپ نے احسان کر کے چھوڑ دیا تھا۔ انہوں لَبَّيْكَ يَا رَسُوْلَ اللهِ وَسَعْدَيْكَ لَبَّيْكَ نے پیٹھ پھیر دی۔ آپؐ نے فرمایا: اے انصار کی نَحْنُ بَيْنَ يَدَيْكَ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ جماعت ! انہوں نے جواب دیا: یا رسول اللہ ! حاضر