صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 179
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۷۹ ۶۴ - کتاب المغازی لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ وَشِعْبَهَا ہو کہ لوگ اونٹ بکریاں لے کر جائیں اور تم اپنے الْأَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ إِنَّكُمْ گھروں میں نبی صلی املی کام کو لے کر جاؤ ؟ اگر ہجرت نہ ہوتی تو سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أُثْرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّی میں بھی انصار میں سے ہی ایک آدمی ہوتا اور اگر لوگ تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ۔ ایک وادی یا پہاڑی راستے میں چلیں تو میں انصار کی ہی وادی اور انہی کے پہاڑی راستے میں چلوں۔ انصار استر ہیں اور دوسرے لوگ ابرہ۔ دیکھو عنقریب تم میرے طرفه ٧٢٤٥ - بعد حق تلفی پاؤ گے۔ پس تم صبر سے رہنا۔ یہاں تک کہ تم مجھے حوض کوثر پر ملو۔ ٤٣٣١ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۴۳۳۱: مجھ سے عبداللہ بن محمد (مسندی) نے حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ بیان کیا، کہا: ہم سے ہشام ( بن یوسف صنعانی) الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكِ نے کہا کہ معمر بن راشد) نے ہمیں بتایا کہ زہری سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: حضرت انس رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ نَاسٌ مِنَ بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی، کہتے تھے: الْأَنْصَارِ حِيْنَ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُوْلِهِ جب اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم و و از ہوازن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَفَاءَ مِنْ کے مالوں سے عطا کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم أَمْوَالِ هَوَازِنَ فَطَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ بعض لوگوں کو سو سو اونٹ دینے لگے تو انصار میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي رِجَالًا الْمِائَةَ مِنَ سے بعض کہنے لگے : اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الْإِبِلِ فَقَالُوْا يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُوْلِ اللَّهِ سے درگزر فرمائے۔ قریش کو دے رہے ہیں اور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قُرَيْشًا میں نظر انداز کر دیا ہے حالانکہ ہماری تلواریں اُن کے خون سے ٹپک رہی ہیں۔ حضرت انس وَيَتْرُكُنَا وَسُيُوْفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ کہتے تھے: رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم سے اُن کی قَالَ أَنَسٌ فَحُدِّثَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اس بات کا ذکر ہوا تو آپ نے انصار کو بلا بھیجا۔ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَقَالَتِهِمْ فَأَرْسَلَ إِلَى ان کو چڑے کے ایک بڑے خیمے میں اکٹھا کیا اور الْأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ اُن کے ساتھ اور کسی کو نہ بلایا۔ جب وہ سب اکٹھے