صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 178
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۷۸ ۶۴ - کتاب المغازی ٤٣٣٠ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ :۴۳۳۰ موسى بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى (کہا: ) وهيب (بن خالد ) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيْمٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بن عمرو بن یحیا سے روایت ہے۔انہوں عباد بن تمیم زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ لَمَّا أَفَاءَ الله سے، عباد نے حضرت عبد اللہ بن زید بن عاصم عَلَى رَسُوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: جب اللہ نے اپنے رسول صلی الظلم کو حسنین کے واقعہ میں غنیمت کا مال يَوْمَ حُنَيْنِ قَسَمَ فِي النَّاسِ فِي عطا فرمایا تو آپ نے ان لوگوں میں وہ بانٹ دیا جن الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَلَمْ يُعْطِ الْأَنْصَارَ کی تالیف قلب مقصود تھی اور انصار کو کچھ نہیں دیا۔شَيْئًا فَكَأَنَّهُمْ وَجَدُوا إِذْ لَمْ يُصِبْهُمْ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انصار نے اس کو محسوس کیا کہ مَا أَصَابَ النَّاسَ فَخَطَبَهُمْ فَقَالَ يَا انہیں وہ کچھ نہیں ملا جو لوگوں کو ملا ہے۔یہ دیکھ کر مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَلَمْ أَجِدُكُمْ ضُلَّالًا آپ نے ان کو خطاب فرمایا اور کہا: اے انصار کی فَهَدَاكُمُ اللهُ بِي وَكُنْتُمْ مُتَفَرِقِيْنَ جماعت! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا؟ پھر فَأَلَّفَكُمُ اللهُ بِي وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمُ اللهُ الله نے میرے ذریعہ تمہیں ہدایت دی اور تم كُلَّمَا قَالَ شَيْئًا قَالُوا اللهُ وَرَسُولُهُ پراگندہ تھے تو اللہ نے میرے ذریعہ تمہارے بي أَمَنُ قَالَ مَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تُجِيْبُوا در میان اُلفت پیدا کر دی اور تم محتاج تھے تو اللہ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نے میرے ذریعہ تم کو غنی کر دیا۔جب کبھی آپ كُلَّمَا قَالَ شَيْئًا قَالُوا اللَّهُ وَرَسُوْلُهُ أَمَنُّ قَالَ لَوْ شِئْتُمْ قُلْتُمْ جِئْتَنَا كَذَا وَكَذَا أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يُذْهَبَ النَّاسُ کچھ فرماتے تو انصار کہتے : اللہ اور اس کے رسول صلى الم نے بڑا ہی احسان فرمایا ہے۔آپ نے کہا: رسول الله صلى اللی کم کو جواب دینے سے تمہیں کیا بات روک رہی ہے؟ حضرت عبد اللہ بن زید کہتے تھے: بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ وَتَذْهَبُوْنَ بِالنَّبِيِّ جب کبھی آپ کچھ فرماتے تو وہ کہتے: اللہ اور اس صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رِحَالِكُمْ کے رسل علی سلیم نے بڑا ہی احسان فرمایا ہے۔آپ لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنتُ امْرَاً مِنَ نے فرمایا: اگر تم چاہتے تو کہتے : آپ ہمارے پاس الْأَنْصَارِ وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَشِعْبًا ایسی ایسی حالت میں آئے تھے۔کیا تم پسند کرتے