صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 160
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۶۰ ۶۴ - کتاب المغازی ٤٣٢١ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۴۳۲۱ : عبد اللہ بن یوسف (تیسی) نے ہم سے أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ بیان کیا کہ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحی بن عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ عَنْ سعید (انصاری) سے، بچی نے عمر بن کثیر بن افلح أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ عَنْ سے، انہوں نے حضرت ابوقتادہ کے غلام ابو محمد سے، انہوں نے حضرت ابو قتادہ سے روایت کی۔ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ انہوں نے کہا: جس سال حنین کا واقعہ ہوا، ہم نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ من اس کے ساتھ نکلے۔ الله نکلے۔ جب ہما ہماری مڈ بھیڑ ہوئی تو فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ مسلمان اِدھر اُدھر ہٹ گئے۔ تو میں نے مشرکوں فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلَا میں سے ایک آدمی کو دیکھا کہ اُس نے ایک مسلمان رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَضَرَبْتُهُ مِنْ شخص کو قابو کیا ہوا ہے۔ میں نے اس کے پیچھے سے وَرَائِهِ عَلَى حَبْلٍ عَائِقِهِ بِالسَّيْفِ آکر اُس کے مونڈھے کی رگ پر تلوار سے ضرب فَقَطَعْتُ الدِّرْعَ وَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَضَمَّنِي لگائی اور اُس کی زرہ کاٹ ڈالی۔ وہ مجھ پر لپکا اور ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ ثُمَّ اس زور سے مجھے بازو میں لے کر دبایا کہ موت کی أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي فَلَحِقْتُ تصویر میری آنکھوں میں پھر گئی۔ پھر موت نے عُمَرَ فَقُلْتُ مَا بَالُ النَّاسِ قَالَ أَمْرُ اس کو آدبوچا اور اس نے مجھے چھوڑ دیا۔ میں اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ رَجَعُوْا وَجَلَسَ النَّبِيُّ حضرت عمرؓ سے جاملا۔ میں نے پوچھا: لوگوں کو کیا ہو گیا کہ وہ بھاگ نکلے۔ انہوں نے کہا: اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ فَقُلْتُ الله عز وجل کا یہی منشاء تھا۔ پھر مسلمان پلٹے اور نبی صلی للہ ہم بیٹھ گئے۔ آپؐ نے فرمایا: جس نے کسی کو مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ قَالَ ثُمَّ مارا ہو، اس کے پاس اس کے متعلق ثبوت ہو تو قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اُس کا (سارا) سامان اُس کو ملے گا۔ میں نے کہا: مِثْلَهُ فَقُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي میری گواہی کون دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا۔ ثُمَّ جَلَسْتُ قَالَ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ حضرت ابو قتادہ کہتے تھے: پھر نبی صلی الہ وسلم نے ویسا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ فَقُمْتُ ہی فرمایا۔ میں اُٹھا اور میں نے خیال کیا: میری گواہی الله