صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 155
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۵۵ ۶۴ - كتاب المغازی ضَرْبَةً قَالَ ضُرِبْتُهَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ (عبد اللہ بن ابی اوفی کے ہاتھ پر زخم کا ایک عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ قُلْتُ شَهِدْتَ نشان دیکھا۔ وہ کہنے لگے کہ حنین کے واقعہ میں حُنَيْنًا قَالَ قَبْلَ ذَلِكَ۔ جبکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، یہ مجھے لگا تھا۔ میں نے پوچھا: آپ حنین میں موجود تھے ؟ انہوں نے کہا: اس سے پہلے بھی لڑائیوں میں ) موجود تھا۔ ٤٣١٥ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ۴۳۱۵ : محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان الله حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ نے ہمیں بتایا۔ ابو اسحاق سے مروی ہے۔ انہوں سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَجَاءَهُ نے کہا: میں نے حضرت رت براء رضی عنہ سے سنا اور رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا عُمَارَةَ أَتَوَلَّيْتَ (اس وقت) ان کے پاس ایک شخص آیا۔ کہنے لگا: يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ أَمَّا أَنَا فَأَشْهَدُ عَلَى ابو عمارہ! کیا تم نے حسنین کے واقعہ میں پیٹھ پھیر دی النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ تھی؟ حضرت براء کہنے لگے: میں نبی علی ایم کی لَمْ يُوَلَّ وَلَكِنْ عَجِلَ سَرَعَانُ الْقَوْمِ نسبت گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے پیٹھ نہیں پھیری تھی۔ البتہ لوگوں میں سے جو جلد باز تھے انہوں فَرَشَقَتْهُمْ هَوَازِنُ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ نے (غنیمت کا مال لینے کے لئے جلدی کی تو الْحَارِثِ آخِذٌ بِرَأْسِ بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ ہوازن نے اُن پر تیر برسائے اور ابو سفیان بن يَقُولُ : مد الله حارث آ آنحضرت صلی علیم کے سفید خچر کو تھامے أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ ہوئے تھے۔ آپ یہ فرما رہے تھے: میں موعود نبی ہوں، یہ جھوٹ نہیں میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں أطرافه: ٢٨٦٤، ۲۸۷٤، ۲۹۳۰، ۳۰۷۲، ٤٣١٦، ٤٣١٧۔ ٤٣١٦ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ۴۳۱۶ ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قِيْلَ لِلْبَرَاءِ وَأَنَا شعبہ نے ہمیں بتایا کہ ابو اسحاق سے مروی ہے۔