صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 156
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۵۶ ۶۴ - کتاب المغازی أَسْمَعُ أَوَلَّيْتُمْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ (انہوں نے کہا:) حضرت براء بن عازب ) سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ أَمَّا پوچھا گیا اور میں سن رہا تھا کہ حنین کے واقعہ میں النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا، تم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ نکلے كَانُوْا رُمَاةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله تھے ؟ انہوں نے جواب دیا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا واقعہ یہ ہے کہ آپ نے پیٹھ نہیں پھیری تھی۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لیکن ہوازن لوگ بڑے تیرانداز تھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ أطرافه: ٢٨٦٤، ،۲۹۳۰ میں موعود نبی ہوں، یہ جھوٹ نہیں میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں ٤٣١٧: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ۴۳۱۷ : محمد بن بشار نے مجھے بتایا کہ غند ر نے ہم حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا کہ ابو اسحاق أَبِي إِسْحَاقَ سَمِعَ الْبَرَاءَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت براء بن مِنْ قَيْسٍ أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ عازب) سے سنا اور ان سے قیس قبیلے کے ایک آدمی نے پوچھا تھا: حسنین کے واقعہ میں تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔انہوں نے کہا: مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بھاگے تھے۔ہوا یہ کہ ہوازن کے لوگ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ لَكِنْ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفِرَّ كَانَتْ هَوَازِنُ رُمَاةً وَإِنَّا لَمَّا حَمَلْنَا عَلَيْهِمْ انْكَشَفُوْا بڑے تیر انداز تھے اور جب ہم نے اُن پر حملہ کیا فَأَكْبَيْنَا عَلَى الْغَنَائِمِ فَاسْتَقْبِلْنَا تو وہ آگے سے ہٹ گئے۔ہم اُن کی غنیمتوں پر بِالسّهامِ وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ ٹوٹ پڑے۔اتنے میں تیروں سے ہمارا استقبال صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ کیا گیا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الْبَيْضَاءِ وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ کو دیکھا کہ آپ اپنی سفید فیچر پر سوار ہیں اور