صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 103 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 103

صحیح البخاری جلد ۹ ۱۳ ۶۴ - کتاب المغازی وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ رَجُلًا اس قوم پر حملہ کیا اور انہیں شکست دے کر بھگا مِنْهُمْ فَلَمَّا غَشِيْنَاهُ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا الله دیا اور میں نے اور ایک انصاری مرد نے اُن میں فَكَفَّ الْأَنْصَارِيُّ فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي سے ایک شخص کا پیچھا کیا۔ جب ہم نے اس کو گھیر حَتَّى قَتَلْتُهُ فَلَمَّا قَدِمْنَا بَلَغَ النَّبِيَّ ليا تو وہ لا إله إلا الله کہنے لگا۔ یہ سن کر انصاری تو صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَسَامَةٌ رُک گیا اور میں نے اپنے نیزہ سے اس کو زخمی کیا أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ اور تو صلی الایم مار ڈالا۔ جب ہم آئے تو نبی کریم صلی علیہم کو یہ می خبر پہنچی تو آپؐ نے فرمایا: اسامہ! کیا تم نے اُسے قُلْتُ كَانَ مُتَعَوِّذَا فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا مار ڈالا بعد اس کے کہ اس نے لا اله الا اللہ کا حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ اقرار کیا۔ میں نے کہا: وہ اپنا بچاؤ کر رہا تھا۔ مگر قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ۔ طرفه ۶۸۷۲ آپ وہی بات دہراتے رہے۔ یہاں تک کہ میں نے آرزو کی کہ کاش میں اس دن سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔ ٤٢٧٠ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۴۲۷۰: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ حاتم بن اسماعیل) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قَالَ سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَع يزيد بن ابی عبید سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: يَقُوْلُ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ میں نے حضرت سلمہ بن اکوع سے سنا۔ وہ کہتے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ وَخَرَجْتُ تھے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات فِيمَا يَبْعَثُ مِنَ الْبُعُوْثِ تِسْعَ مہموں میں نکلا اور جو دستے آپ روانہ فرماتے تھے غَزَوَاتٍ مَرَّةً عَلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ وَمَرَّةً ایسے دستوں کے ساتھ میں نو مہموں میں نکلا۔ ایک بار حضرت ابو بکرہ ہم پر سردار تھے اور ایک عَلَيْنَا أُسَامَةُ۔ أطرافه: ۴۲۷۲،۴۲۷۱، ۴۲۷۳۔ بار اسامہ بن زید ٤٢٧١ : وَقَالَ عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ ۴۲۷۱: عمر بن حفص بن غیاث ( شیخ بخاری ) نے غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ کہا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید