صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 239 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 239

صحیح البخاری جلد ۹ بَعْضُهُمْ بِعُضْوِ فَأَكَلَهُ۔ ۲۳۹ ۶۴ - کتاب المغازی اسے تم کھاؤ۔ ہمیں بھی کھلاؤ اگر تمہارے ساتھ کچھ ہو۔ ان میں سے کسی نے آپؐ کو ایک حصہ دیا اور آپ نے اس کو کھایا۔ اطرافه: ۲۴۸۳ ، ۲۹۸۳ ، ٤٣٦٠، ٤٣٦١ ، ٥٤٩٣، ٥٤٩٤ تشريح : غَزْوَةُ سِيْفِ الْبَحْرِ : مذکورہ بالا غزوہ ان غزوات میں سے ہے جن میں کسی سے جنگ کرنا مقصود نہ تھا بلکہ اس غزوہ میں شامل لوگ قافلہ تجارت کی حفاظت کی غرض سے بھیجے گئے۔ یہ مہم بقول ابن سعد تین سو مهاجر و انصار پر مشتمل تھی۔ حضرت ابو عبیدہ بن جراح اس کے امیر تھے اور غزوہ سیف البحر کے نام سے مشہور ہے۔ کاروانی راستہ سے قریب بحیرہ قلزم کے کنارے حفاظتی چوکی قائم کی گئی تھی اس لئے غزوہ سيف البحر سے موسوم ہے۔ سیف کے معنی ساحل کے ہیں۔ ابن سعد نے سرِيَّةُ الخبط کے عنوان سے اس کا مختصر ذکر کیا ہے۔ تحبط کے معنی ہیں درخت کے پتے۔ زادِ راہ ختم ہونے کی وجہ سے مجاہدین کو پتے کھانے پڑے تھے۔ ابن سعد اسعد نے تاریخ وقوع رجب ۸ھ بتائی ہے اور یہ زمانہ بد نہ (یعنی صلح حدیبیہ ) کا حدیبیہ ) کا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ وسلم نے دور اندیشی سے کام لیا اور بطور احتیاط مذکورہ بالا حفاظتی دستہ علاقہ سیف البحر میں بھیج دیا تا شام سے آنے والے قریشی قافلہ سے تعرض نہ ہو اور قریش کو نقض معاہدہ کا بہانہ نہ ملے۔ مذکورہ بالا جگہ بقول ابن سعد مدینہ سے پانچ دن کی مسافت پر ابن اسحاق نے سیف البحر کے عنوان سے اس کا مختصر سا ذکر کیا ہے۔ کے قلت غذا سے متعلق دونوں مؤلفین ہے۔ مغازی متفق ہیں اور دونوں کے بیان میں کسی جنگ کا ذکر نہیں اور نہ باب ۶۵ کی تینوں روایتوں میں۔ کی ابتدائے باب میں الفاظ يَتَلَقَّوْنَ عِيْرًا لِقُريش یا دوسری روایت (نمبر ۴۳۶۱) میں نَرْصُدُ عِيْرَ قُریش سے مراد قافلے کا ٹوٹنا نہیں کیونکہ تلقی کے معنی ہیں استقبال کرنا اور رصد کے معنی ہیں نگرانی کرنا۔ عنوان باب میں الفاظ وَهُمْ يَتَلَقَّوْنَ عِيْرًا لِقُرَيْشٍ سے مہم کی غرض بتائی گئی ہے۔ صحیح مسلم میں بھی مذکورہ بالا مہم مختلف راویوں سے مروی ہے۔ ان کی ایک روایت جو بسند عبید اللہ بن مقسم حضرت جابرؓ ہی سے مروی ہے، اس کے یہ الفاظ ہیں: بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا إِلَى أَرْضِ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہینہ کے علاقہ طرف ایک مہم بھیجی۔ ان الفاظ سے یہ سمجھا گیا ہے کہ جہینہ سے لڑنے کے لئے بھیجی گئی تھی۔ قبیلہ جہینہ آپ کا حلیف تھا اور زمانہ ہد نہ (یعنی صلح) کا۔ اس لئے کسی جنگ کا سوال ہی نہ تھا اور کسی روایت میں لڑائی ہونے کا بھی ذکر نہیں۔ امام ابن حجر نے واضح کیا ہے کہ یہ روایتیں متضاد نہیں بلکہ متفق ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ مقصود قافلے کی حفاظت بھی ہو اور جہینہ بھی ہوں جن سے اس قافلے کے لئے خطرے کا امکان تھا۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۹۸) ض جُهَيْنَة -- الطبقات الكبرى لابن سعد، مغازی رسول الله ﷺ وسراياه، سرية الخبط، جزء ۲ صفحہ ۱۰۰) (السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة ابي عبيدة بن الجراح الى سيف البحر، جزء ۲ صفحه ۶۳۲) (صحيح المسلم ، کتاب الصيد والذبائح، باب اباحة ميتات البحر )