صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 89 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 89

صحیح البخاری جلد ۹ ۸۹ ۲۴ - کتاب المغازی عمرہ بھی اپنی شرائط معذوری کے ساتھ مکمل تھا اور یہ عمرہ بھی مکمل۔ کتاب الحج میں گزر چکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے جن میں عمرہ حدیبیہ بھی شامل ہے۔ (کتاب العمرة، باب ۳، روایت نمبر ۱۷۷۸، ۱۷۷۹) بعض نے آیت الشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمُتُ قِصَاصُ (البقرۃ: ۱۹۵) کی بناء پر اس عمرہ کا نام عمرۃ القصاص زیادہ مناسب سمجھا ہے۔ (فتح الباری جزءے صفحہ ۶۲۶) ان کے نزدیک لفظ قضاء میں قصاص کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ قریش نے شہر حرام میں عمرہ کرنے سے روکا تھا۔ اس لئے شہر حرام ہی میں یہ عمرہ کیا گیا تھا۔ ورنہ عمرہ کے لئے کسی مہینہ کی تخصیص نہیں۔ سال بھر میں کیا جا سکتا ہے۔ تسمیہ عمرہ سے متعلق اسی قسم کا اختلاف عنوانِ باب میں ملحوظ ہے اور باب کی پہلی روایت سے اس کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وَزَادَ ابْنُ إِسْحَاقَ ۔۔۔ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةً فِي عُمْرَةِ القَضَاءِ: روايت نمبر ۴۲۵۹ میں ہے وَزَادَ ابن اسحاقی ۔۔۔ ابن اسحاق نے یہ روایت بواسطہ ابان بن صالح اور عبد اللہ بن ابی نجیح حضرت ابن عباس سے موصولاً نقل کی ہے۔ حضرت میمونہ بنت حارث جن سے نکاح ہوا ہے حضرت عباس کی بیوی ام الفضل کی بہن تھیں۔ یہ ایک نہایت مخلص خاتون تھیں جو بیوہ ہو چکی تھیں۔ حضرت جعفر اور حضرت عباس ہی کی تحریک پر آپ کا ان سے نکاح ہوا۔ وہ پہلے ابور ہم بن عبد العزیٰ یا اس کے بھائی حویطب کے عقد میں تھیں۔ مقام سرف پر جو مکہ سے دس میل کے فاصلہ پر ہے ان کا رخصت نہ ہوا اور اسی مقام پر ان کی وفات ۵۱ھ میں ہوئی۔ فتح الباری جزءے صفحہ ۶۳۸، ۶۳۹) باب ٤ ٤ : غَزْوَةُ مُؤْتَةَ مِنْ أَرْضِ الشَّأْمِ غزوہ موتہ جو کہ ملک شام میں ہوا ٤٢٦٠ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا ابْنُ ۴۲۶۰ احمد (بن صالح) نے ہم سے بیان کیا کہ وَهْبٍ عَنْ عَمْرٍو عَنِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ (عبد اللہ ) ابن وہب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قَالَ وَأَخْبَرَنِي نَافِعٌ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ عمرو بن حارث انصاری) سے۔ عمرو نے (سعید) بن ابی ہلال سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: اور أَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَقَفَ عَلَى جَعْفَرٍ يَوْمَئِذٍ نافع نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابن عمرؓ نے ان کو وَهُوَ قَتِيْلٌ فَعَدَدْتُ بِهِ خَمْسِيْنَ بَيْنَ بتایا کہ وہ غزوہ موتہ کے دن حضرت جعفر کے طَعْنَةٍ وَضَرْبَةٍ لَيْسَ مِنْهَا شَيْءٌ فِي پاس کھڑے تھے جبکہ وہ شہید ہو کر زمین پر پڑے ا (السيرة النبوية لابن هشام ، زواج الرسول بميمونة، جزء ۴ صفحه ۸) (شرح الزرقاني على المواهب اللدنية ، عمرة القضاء، جزء ۳ صفحه ۳۲۸، ۳۲۹)