صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 88 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 88

صحیح البخاری جلد ۹ ^^ ۶۴ - کتاب المغازی ٤٢٥٩: وَزَادَ ابْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي :۴۲۵۹ اور ابن اسحاق نے اتنا اور بیان کیا کہ ابْنُ أَبِي نَجِيْحٍ وَأَبَانُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ ( عبد اللہ) بن ابی نجیح اور ابان بن صالح نے مجھے عَطَاءٍ وَمُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ بتایا۔انہوں نے عطاء اور مجاہد سے، ان دونوں تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ قضاء میں مَيْمُونَةً فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ۔أطرافه ١٨٣٧ ، ٤٢٥٨ ، ٥١١٤۔حضرت میمونہ سے شادی کی تھی۔عُمرَةُ الْقَضَاءِ: مستملی کے نسخہ صحیح بخاری میں غَزْوَةُ الْقَضَاءِ کے عنوان سے یہ باب قائم کیا گیا ہے اور یہ عنوان درست قرار دیا گیا ہے۔کیونکہ موسیٰ بن عقبہ نے اپنی کتاب مغازی میں زہری سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسلحہ سے لیس ہو کر قضاء عمرہ کے لئے گئے تھے۔مبادا قریش مکہ آپ سے غدر کریں۔یہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ لفظ غَزُوَة مطلق کوچ یا چڑھائی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔صحابہ کو مسلح دیکھ کر قریش مکہ گھبرائے۔مکر ز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا اور آپ نے اسے یقین دلایا کہ ہماری طرف سے معاہدہ کی پابندی ہوگی اور بغیر اسلحہ اور تلواریں نیام میں رکھے ہوئے عمرہ کیا جائے گا۔چنانچہ آپ نے حرم سے باہر صحابہ کی ایک جماعت کے پاس اسلحہ رکھوایا۔چونکہ غدر کا خوف تھا اس لئے مستملی کے نسخے میں غَزْوَةُ الْقَضَاءِ کا عنوان ہے۔ابن اثیر کا خیال ہے کہ یہ سفر غزوہ حدیبیہ کے تعلق میں تھا۔اس لئے امام بخاری نے باب عُمْرَةُ الْقَضَاءِ کو غزوات ہی کے ضمن میں رکھا ہے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۶۲۶) دراصل آپ کے غزوات کی تاریخ وقوع کا تسلسل بھی ملحوظ ہے۔بقول ابن سعد حضرت زید بن حارثہ کی تجارتی مہم کا واقعہ رمضان ۶ھ میں ہوا تھا۔یہ مہم وادی القریٰ کے قریب لوٹی گئی تھی۔جیسا کہ ابھی بیان کیا جا چکا ہے کہ بنو فزارہ کے لٹیروں نے انہیں مارا پیٹا اور سامان تجارت چھین لیا اور حضرت زید بن حارثہ شفا پانے کے بعد ان کی سرزنش کے لئے بھیجے گئے۔ذوالقعدہ کا مہینہ رمضان کے بعد ہے جس میں عمرہ قضاء کا کوچ ہوا تھا۔مذکورہ ترتیب غزوات سے ظاہر ہے کہ امام بخاری کے نزدیک بھی یہی تسلسل واقعہ درست ہے۔ابن ہشام نے مہینہ کا ذکر کیا ہے۔۔عمرہ قضاء کا نام اس لئے قضاء نہیں رکھا گیا کہ سابقہ عمرہ فاسد تھا اور اس کی جگہ پورا کیا گیا بلکہ اس لئے عمرہ قضاء کہلاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے شرائط معاہدہ کی نگہداشت رکھنے کا تقاضا فرمایا تھا۔جیسا کہ روایت نمبر ۴۲۵۱ کے الفاظ حَتَّی قَاضَاهُمْ عَلَى أَنْ يُقِيمَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيا م سے ظاہر ہے۔اس سے ما قبل سال کا ل (الطبقات الکبری، مغازی رسول اللہ ﷺ وسراياه، سرية زيد بن حارثة إلى أم قرفة، جزء ۲ صفحه ۶۹) السيرة النبوية لابن هشام ، عمرة القضاء، جزء ۴ صفحه (۵) رم