صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 90
صحیح البخاری جلد ۹ دُبُرِهِ يَعْنِي فِي ظَهْرِهِ۔طرفه: ۴۲۶۱۔9+ ۶۴ - کتاب المغازی تھے۔انہوں نے کہا: میں نے ان پر پچاس نیزے کے زخم اور تلوار کے گھاؤ گئے اور ان زخموں میں سے کوئی زخم بھی ان کی پیٹھ پر یعنی ان کی پشت پر نہ تھا۔٤٢٦١: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ :۴۲۶۱: احمد بن ابی بکر نے ہمیں خبر دی کہ مغیرہ حَدَّثَنَا مُغِيْرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ بن عبد الرحمن نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبد اللہ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ نَافِعِ عَنْ بن سعید سے، عبد اللہ نے نافع سے، نافع نے عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت قَالَ أَمَّرَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کی۔انہوں نے کہا: غزوہ موتہ میں رسول اللہ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ زَيْدَ بْنَ حَارَثَةَ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ کو امیر فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مقرر کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنْ قُتِلَ زَيْدٌ فَجَعْفَرٌ وَإِنْ قُتِلَ جَعْفَرٌ اگر زید مارے جائیں تو جعفر امیر ہوں اور اگر وہ فَعَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ قَالَ عَبْدُ الله مارے جائیں تو عبد اللہ بن رواحہ حضرت عبد اللہ كُنتُ فِيهِمْ فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ فَالْتَمَسْنَا ( بن عمر) کہتے تھے کہ میں اس جہاد میں ان کے ساتھ تھا۔ہم نے حضرت جعفر بن ابی طالب کی جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَوَجَدْنَاهُ فِي تلاش کی تو ہم نے ان کو مقتولوں میں پایا اور جو الْقَتْلَى وَوَجَدْنَا مَا فِي جَسَدِهِ بِضْعًا زخم ان کے جسم میں تھے ہم نے ان کو نوے سے وَتِسْعِينَ مِنْ طَعْنَةٍ وَرَمْيَةٍ طرفه: ۴۲۶۰۔کچھ اوپر پایا، جو بھالے اور تیر کے زخم تھے۔٤٢٦٢: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ وَاقِدِ :۴۲۶۲ احمد بن واقد نے ہم سے بیان کیا کہ حماد حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ بن زید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب (سختیانی) حُمَيْدِ بْن هِلَالٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ الله سے، ایوب نے حمید بن ہلال سے، انہوں نے الله عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت انس سے روایت کی کہ نبی ملی لیلی