صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 31 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 31

صحیح البخاری جلد ۹ ۳۱ ۶۴ - کتاب المغازی صد الله سلم أَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہ حضرت ابان بن سعید نبی صلی ایم کے پاس وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ( سیدھے) چلے آئے اور آپ کو السلام علیکم کہا۔ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا قَاتِلُ ابْنِ فَوْقَل حضرت ابوہریرہ نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ (نعمان) وَقَالَ أَبَانُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ وَاعَجَبًا لَكَ من قوقل کا قاتل ہے اور ابان نے ابوہریرہ ابھی وَبْرٌ تَدَادَاً مِنْ قَدُومٍ ضَأْنٍ يَنْعَى سے کہا: واہ رے بلونگڑے! تیرا کیا کہنا جو عَلَيَّ امْرَأَ أَكْرَمَهُ اللَّهُ بِيَدِي وَمَنَعَهُ أَنْ شان پہاڑ کے جنگل سے ڈھکتا چلا آیا ہے مجھ پر ایسے شخص سے متعلق الزام لگاتا ہے جس کو اللہ نے يُهِينَنِي بِيَدِهِ۔ أطرافه: ۲۸۲۷ ، ۴۲۳۷ ، ۴۲۳۸۔ میرے ہاتھ سے عزت بخشی اور جس کے ہاتھ سے مجھے رسوا نہ ہونے دیا۔ ٤٢٤٠ - ٤٢٤١ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ ۴۲۴۰-۴۲۴۱: یحی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ كه لیث بن سعد ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا روایت کی کہ بی سی ایم کی بیٹی حضرت فاطمہ علیہا السلام الله السَّلَامُ بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے حضرت ابوبکر" کو کہلا بھیجا کہ رسول اللہ لیا صلى الله علم وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ تَسْأَلُهُ سے جو اُن کے ورثہ کا حق ہے، اُن سے مانگتی ہیں مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّی اللہ یعنی ان مالوں میں سے جو الله ان مالوں میں سے جو اللہ نے ان کو مدینہ میں اور فدک میں عنایت کیا تھا نیز اُس مال سے جو خیبر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ کے پانچویں حصے۔ وَفَدَكَ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ فَقَالَ یہ پانچویں حصے سے بیچ رہا تھا تو حضرت ابو رت ابو بکر نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا ہے: أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑ جائیں وہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ سب صدقہ ہے۔ البتہ محمد صلی علیہ صلی اللہ وسلم کی اولاد اس مال میں سے اپنا نان و نفقہ لیا کریں گے اور اللہ کی قسم ! صا رسول اللہ صلی السلام کے صدقہ کو اس کی اس - علیہ اس حالت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَإِنِّي وَاللهِ سے کہ جس پر وہ رسول اللہ صلی علیم کے زمانہ میں تھا،