صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 299
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۹۹ ۶۴ - کتاب المغازی ٤٤١٦ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى ۴۴۱۶: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یچی عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مُصْعَبِ بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ شعبہ سے، شعبہ نے حکم (بن عتیبہ) سے، ) سے، حکم نے سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى تَبُوكَ مصعب بن سعد سے، انہوں نے اپنے باپ وَاسْتَخْلَفَ عَلِيًّا فَقَالَ أَتُخَلِّفُنِي فِي روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک الصَّبْيَانِ وَالنِّسَاءِ قَالَ أَلَا تَرْضَى جانے کے لئے نکلے اور حضرت علی کو (مدینہ میں ) اپنا قائمقام مقرر کیا۔ حضرت علیؓ نے کہا: کیا آپ أَنْ تَكُوْنَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ نَبِيٌّ بَعْدِي۔ وَقَالَ مجھے بچوں اور عورتوں میں پیچھے چھوڑ کر جاتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا: کیا آپ خوش نہیں ہوتے کہ أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ آپ کا مقام مجھ سے وہی ہے جو ہارون کا موسیٰ سے سَمِعْتُ مُصْعَبًا۔ تھا۔ مگر یہ بات ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور ابو داؤد (طیالسی) نے کہا: شعبہ نے حاکم (بن عتیبہ) سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے طرفه ٣٤٠٦۔ مصعب سے سنا۔ ٤٤١٧ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ۴۴۱۷: عبید اللہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ کہ محمد بن بکر نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءٌ يُخْبِرُ قَالَ میں خبر دی۔ انہوں نے کہا: میں نے عطاء سے سنا۔ وہ بتایا کرتے تھے، أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ بن ابي رباح ) کہتے تھے : صفوان بن یعلی بن امیہ نے اپنے باپ عَنْ أَبِيهِ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا، کہا کہ میں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعُسْرَةَ قَالَ عسرہ کی جنگ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ كَانَ يَعْلَى يَقُولُ تِلْكَ الْغَزْوَةُ أَوْثَقُ غزوہ میں نکلا۔ صفوان نے کہا: حضرت یعلی کہتے أَعْمَالِي عِنْدِي قَالَ عَطَاءٌ فَقَالَ تھے کہ وہ جنگ میرے نزدیک میرے تمام اعمال صَفْوَانُ قَالَ يَعْلَى فَكَانَ لِي أَجِيْرٌ کی نسبت زیادہ قابل اعتماد ہے۔ عطاء نے کہا کہ