صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 297
صحیح البخاری جلد ۹ ۲۹۷ ۶۴ - کتاب المغازی باب ۷۸ : غَزْوَةُ تَبُوكَ وَهِيَ غَزْوَةُ الْعُسْرَةِ غزوہ تبوک اور یہ غزوہ عسرہ بھی کہلاتا ہے ٤٤١٥ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ۴۴۱۵ : محمد بن علاء نے مجھ سے بیان کیا کہ ابواسامہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے برید بن عبد اللہ بن ابی بردہ سے، انہوں نے ابو بردہ سے، ابو بردہ نے اللهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ الله حضرت ابوموسیٰ اشعری ) سے ر نہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میرے ساتھیوں نے مجھے علیہم سے أَرْسَلَنِي أَصْحَابِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ رسول اللہ صلی اسلام کے پاس بھیجا کہ میں آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ الْحُمْلَانَ ان کے لئے سواریاں مانگوں کیونکہ وہ بھی آپ لَهُمْ إِذْ هُمْ مَعَهُ فِي جَيْشِ الْعُسْرَةِ کے ساتھ جیش عسرہ میں ہیں اور یہی غزوہ تبوک وَهِيَ غَزْوَةُ تَبُوْكَ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللهِ ہے۔ میں نے کہا: یا نبی اللہ ! میرے ساتھیوں نے إِنَّ أَصْحَابِي أَرْسَلُوْنِي إِلَيْكَ لِتَحْمِلَهُمْ مُجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ آپ انہیں سواریاں دیں۔ آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! کوئی سواری فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ عَلَى شَيْءٍ نہیں کہ تمہیں دوں۔ اور میں نے اتفاق آپ سے وَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ وَلَا أَشْعُرُ ایسے وقت میں مطالبہ کیا کہ جب آپ غصہ میں وَرَجَعْتُ حَزِيْنَا مِنْ مَّنْعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ تھے اور میں نہیں جانتا تھا۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمِنْ مَخَافَةِ أَنْ يَكُونَ کے اس انکار سے نیز اس خوف سے کہ کہیں نبی صدا الله النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ فِي علی تعلیم اپنے دل میں مجھ پر ناراض نہ ہو گئے ہوں، غمگین ہو کر لوٹ آیا۔ با نَفْسِهِ عَلَيَّ فَرَجَعْتُ إِلَى أَصْحَابِي کر لوٹ آیا۔ میں اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آگیا اور جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا فَأَخْبَرْتُهُمُ الَّذِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ میں نے اُن کو بتایا۔ بہت تھوڑی دیر گزری تھی کہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَلْبَتْ إِلَّا سُوَيْعَةً إِذْ میں نے بلال کو سنا کہ وہ پکار رہے ہیں: عبد اللہ بن سَمِعْتُ بِلَالًا يُنَادِي أَيْ عَبْدَ اللهِ بْنَ میں ! میں نے ان کو جواب دیا۔ انہوں نے کہا: قَيْسٍ فَأَجَبْتُهُ فَقَالَ أَجِبْ رَسُوْلَ اللهِ رسول اللہ صلی علیم کے پاس جاؤ، تمہیں بلا رہے ہیں۔