صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 192
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۹۲ ۶۴ - کتاب المغازی مسجد کی جس مہم کا یہاں ذکر ہے اس کا تعلق شعبان آٹھویں ہجری سے ہے اور یہ مہم حضرت ابو قتادہ بن ربعی انصاری کی سر کردگی میں بھیجی گئی تھی۔ کتب مغازی میں اس کا وقوع فتح مکہ سے قبل بیان کیا گیا ہے۔ امام بخاری کی ترتیب کی رو سے غزوہ طائف کے بعد یہ مہم بھیجی گئی اور ان کے ساتھ بقول ابن سعد پندرہ کس مجاہد تھے لے اور بعض نے پچیس کا ذکر کیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۷۰) غزوۂ قرقرۃ الکدر کا تعلق بنو محارب کے ان قبائل سلیم و غطفان سے تھا جو سید معونہ کے پرے معدن کے علاقہ میں آباد تھے۔ مدینہ سے آٹھ برید (۹۶ میل) کا فاصلہ ہے۔ اور مجد کی مذکورۃ الصدر مہم اس غطفان محارب سے مخصوص تھی جو خضرہ میں تھا اور اس میں لڑائی ہوئی اور دو سو اونٹ، دو ہزار بکریاں اور قیدی ہاتھ آئے اور حضرت ابو قتادہ کے حصے میں ایک خاندانی خوبصورت دوشیزہ بطور حصہ غنیمت آئی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے محمید بن جزء کو بطور ہبہ دے دی۔ کتب مغازی کے بیانات سے بھی ظاہر ہے کہ دونوں واقعات الگ الگ ہیں۔ غزوہ قرقرہ میں حضرت عبد اللہ بن عمرؓ موجود نہیں تھے۔ ۔ اگر یہ روایات درست ہیں تو مذکورہ بالا مہم کی غرض واضح ہے کہ وہ ایک جوابی کارروائی تھی۔ مسجد کے قبائل بنو محاربہ و بنو ثعلبہ کی عداوت اور قافلوں پر غارت گری شروع زمانہ ہجرت سے رہی ہے اور فتح مکہ کے بعد بھی جو اسلامی یورشیں ہوئی ہیں ان کا ایک ہی مقصد تھا۔ امن عامہ کی بحالی، استحکام ملک اور نظم و نسق کی توثیق۔ باب ٥٨ بَعْثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي جَدِيْمَةَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت خالد بن ولید کو بنو جذیمہ قبیلہ کی طرف بھیجنا ٤٣٣٩ : حَدَّثَنِي مَحْمُوْدٌ حَدَّثَنَا ۴۳۳۹ محمود ( بن غیلان ) نے مجھ سے بیان کیا کہ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح۔ وَ عبد الرزاق نے ہمیں بتایا کہ معمر نے ہمیں ہمیں خبر دی۔ حَدَّثَنِي نُعَيْمٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا (دوسری سند ) اور نعیم ( بن حماد ) نے مجھ سے بیان مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيْهِ کیا کہ عبد اللہ بن مبارک) نے ہمیں خبر دی کہ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي جَذِيْمَةَ نے سالم سے ، سالم نے اپنے باپ (حضرت عبداللہ زہری الطبقات الكبرى لابن سعد، مغازی رسول الله ، سرية أبي قتادة الى خضرة، جزء ۲ صفحه ۱۰۰، ۱۰۱) الطبقات الكبرى طبقات الكبرى لابن سعد، مغازی رسول الله ﷺ، غزوة قرقرة الكدر ، جزء ۲ صفحه (۲۳) (صحيح البخاری، کتاب الشهادات، باب بلوغ الصبيان و شهادتهم ، روایت نمبر ۲۶۶۴)