صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 123
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۲۳ ۶۴ - کتاب المغازی بْن زَيْد عَنْ أَيُّوبَ ۔ اس سے بیہقی کی روایت کا حوالہ دیا گیا ہے۔ جس میں ایوب کی سند صرف عکرمہ تک ہی ہے۔ اس میں حضرت ابن عباس کا ذکر نہیں اور یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ روایت مرسل ہے۔ (فتح الباری جز ی جزء ۸۰ صفحه (۸) ↓ روایت نمبر ۴۲۷۹ کے لئے دیکھئے کتاب الصوم باب ۳۴ روایت نمبر ۱۹۴۴ اور باب ۳۸ روایت نمبر ۱۹۴۸۔ بَاب ٤٨ : أَيْنَ رَكَزَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّايَةَ يَوْمَ الْفَتْحِ فتح (مکہ) کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پرچم کہاں نصب کیا ٤٢٨٠ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۴۲۸۰: عبید بن اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو سَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيْهِ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن قَالَ لَمَّا سَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عروہ) سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَبَلَغَ ذَلِكَ کہ انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی ہم نے قُرَيْشًا خَرَجَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ فتح (مکہ) کے سال کوچ کیا تو قریش کو یہ خبر پہنچی۔ وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ وَبُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ تب ابو سفیان بن حرب، حکیم بن حزام اور تبدیل يَلْتَمِسُوْنَ الْخَبَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ بن ورقاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق حالات کی جستجو میں نکلے۔ وہ چل پڑے یہاں تک صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلُوْا يَسِيرُونَ حَتَّى أَتَوْا مَرَّ الظَّهْرَانِ فَإِذَا أَبُو سُفْيَانَ مَا هَذِهِ لَكَأَنَّهَا نِيرَانُ کہ مر الظهران مقام پر پہنچے تو انہوں نے کیا دیکھا کہ بے شمار آگیں روشن ہیں، جیسے (حج کے موقع ابوسفیان هُمْ بِنِيْرَانِ كَأَنَّهَا نِيرَانُ عَرَفَةَ فَقَالَ پر ) مقامِ عرفات کی آگیں ہوتی ہیں۔ ابو نے کہا: یہ کیسی ہیں؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عرفات عَرَفَةَ فَقَالَ بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ نِيرَانُ کی آگئیں ہیں۔ بدیل بن ورقاء نے کہا: بنو عمرو بَنِي عَمْرٍو فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ عَمْرُو (خزاعہ) کی آگیں معلوم ہوتی ہیں۔ ابوسفیان نے أَقَلُّ مِنْ ذَلِكَ فَرَآهُمْ نَاسٌ مِنْ حَرَسٍ کہا: عمرو کا قبیلہ اس تعداد سے بہت کم ہے۔ اتنے رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں ان کو رسول اللہ صلی السلام کے پہرہ داروں میں فَأَدْرَكُوْهُمْ فَأَخَذُوْهُمْ فَأَتَوْا بِهِمْ سے کچھ لوگوں نے دیکھ لیا اور اُن کو پکڑ کر گرفتار (دلائل النبوة للبيهقي، جماع أبواب فتح مكة، نزول رسول الله ﷺ عمر الظهران، جزء ۵ صفحه ۳۲ تا ۳۵)