صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 124
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۲۴ ۶۴ - کتاب المغازی رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کر لیا اور پھر اُن کو رسول اللہ صلی اللہ کریم کے پاس لے فَأَسْلَمَ أَبُوسُفْيَانَ فَلَمَّا سَارَ قَالَ آئے۔ابو سفیان تو مسلمان ہو گیا۔جب آپ چلے لِلْعَبَّاسِ احْبِسْ أَبَا سُفْيَانَ عِنْدَ خَطْمِ تو آپ نے حضرت عباس سے فرمایا: ابو سفیان کو الْجَبَلِ حَتَّى يَنْظُرَ إِلَى الْمُسْلِمِيْنَ پہاڑ کے درے پر روکے رکھنا تاکہ وہ مسلمانوں فَحَبَسَهُ الْعَبَّاسُ فَجَعَلَتِ الْقَبَائِلُ تَمُرُّ (کی فوج) کو دیکھ لے۔چنانچہ حضرت عباس نے ان کو روکے رکھا۔قبائل نبی صلی الہ وسلم کے ساتھ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمُرُّ كَتِيبَةً كَتِيْبَةً عَلَى أَبِي سُفْيَانَ فَمَرَّتْ گزرنے لگے۔ایک ایک دستہ فوج ابوسفیان کے سامنے سے گزرتا گیا۔جب ایک لشکر گزرا تو كَتِيْبَةٌ قَالَ يَا عَبَّاسُ مَنْ هَذِهِ قَالَ ابوسفیان نے کہا: عباس ! یہ کون لوگ ہیں؟ هَذِهِ غِفَارُ قَالَ مَا لِي وَلِغِفَارَ ثُمَّ انہوں نے کہا: یہ غفار کے لوگ ہیں۔ابوسفیان نے مَرَّتْ جُهَيْئَةُ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ مَرَّتْ کہا: مجھے غفار سے کیا سروکار۔پھر جہینہ گزرے۔سَعْدُ بْنُ هُدَيْمٍ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ابوسفیان نے ویسے ہی کہا۔پھر سعد بن ہزیم وَمَرَّتْ سُلَيْمُ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى گزرے۔پھر اس نے ویسے ہی کہا۔پھر سلیم أَقْبَلَتْ كَتِيبَةٌ لَمْ يَرَ مِثْلَهَا قَالَ مَنْ گزرے۔پھر اس نے ویسے ہی کہا۔یہاں تک کہ هَذِهِ قَالَ هَؤُلَاءِ الْأَنْصَارُ عَلَيْهِمْ آخر میں ایک لشکر ایسا آیا کہ ویسا اس نے کبھی نہ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مَعَهُ الرَّايَةُ فَقَالَ دیکھا تھا۔ابوسفیان نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ يَا أَبَا سُفْيَانَ الْيَوْمَ حضرت عباس نے کہا: انصار ہیں۔ان کے سردار يَوْمُ الْمَلْحَمَةِ الْيَوْمَ تُسْتَحَلُ الْكَعْبَةُ سعد بن عبادہ نہیں، جن کے ساتھ علم ہے۔حضرت سعد بن عبادہ نے پکار کر کہا: ابو سفیان ! آج کا روز فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ يَا عَبَّاسُ حَبَّذَا يَوْمُ گھمسان کی لڑائی کا روز ہے۔آج کعبہ میں لڑائی الدِّمَارِ ثُمَّ جَاءَتْ كَتِيبَةٌ وَهِيَ أَقَلُّ حلال ہوگئی۔ابو سفیان نے یہ سن کر کہا: عباس! الْكَتَائِبِ فِيهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ بر بادی کا یہ دن کیا خوب ہو گا۔(اگر مقابلہ کا موقع عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَرَايَةُ النَّبِيِّ مل جاتا ) پھر ایک اور دستہ فوج آیا اور وہ تمام صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الزُّبَيْرِ بْنِ لشکروں سے چھوٹا تھا۔ان میں رسول اللہ صلی اللہ