صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 91
صحيح البخاری جلد ۸ 91 ۶۴ - کتاب المغازي مِنْ أَصْحَابِ الْحُدَيْبِيَّةِ أَحَدًا ثُمَّ کا واقعہ ایسے وقت میں ہوا کہ ان لوگوں میں سے وَقَعَتِ الثَّالِثَةُ فَلَمْ تَرْتَفِعُ وَلِلنَّاسِ کوئی باقی نہ تھا جو حدیبیہ میں شریک تھے۔پھر تیسر ا فتنہ ہوا اور وہ اس وقت تک دور نہ ہوا جب طَبَاخ۔طرفه: ۳۱۳۹ تک کہ لوگوں میں کچھ طاقت باقی تھی۔٤٠٢٥: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ :۴۰۲۵ حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الثَّمَيْرِيُّ حَدَّثَنَا عبد الله بن عمر النمیری نے ہمیں بتایا۔یونس بن يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيُّ یزید نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے زہری سے سنا۔انہوں نے کہا: میں نے عروہ بن زبیر ، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبید اللہ بن قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ وَسَعِيْدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ وَعَلْقَمَةَ بْنَ وَقَاصٍ عبد اللہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت وَعُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ عَنْ حَدِيْثِ عائشہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ سنا، ان میں سے ہر عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيَّ شخص نے اس واقعہ کا ایک حصہ مجھ سے بیان کیا۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ حَدَّثَنِي حضرت عائشہ کہتی تھیں: میں اور مسطح کی ماں طَائِفَةً مِّنَ الْحَدِيْثِ قَالَتْ فَأَقْبَلْتُ سلمیٰ بنت ابی رہم) دونوں ( قضائے حاجت کے أَنَا وَأُمُّ مِسْطَحٍ فَعَثَرَتْ أُمَّ مِسْطَحٍ فِي لئے) چلیں۔مصطلح کی ماں نے اپنی اوڑھنی سے اُلجھ کر ٹھوکر کھائی۔بولیں: مسطح کا ستیا ناس! میں نے کہا: کیا ہی بُرا کلمہ ہے جو تم نے کہا ہے، بِئْسَ مَا قُلْتِ تَسُمِّيْنَ رَجُلًا شَهِدَ ایسے شخص کو گالیاں دیتی ہو جو بدر میں شریک تھا۔مِرْطِهَا فَقَالَتْ تَعِسَ مِسْطَحٌ فَقُلْتُ بَدْرًا فَذَكَرَ حَدِيثَ الْإِفْكِ۔پھر زہری نے افک کا واقعہ بیان کیا۔اطرافه: ۲۵۹۳، ۲۶۳۷، ۲۶۶۱، ۲۶۸۸ ، ۲۸۷۹ ، ۴۱۴۱ ، ۴۶۹۰، ۴۷۴۹، ۴۷۵۰، ۴۷۵۷، ۵۲۱۲، ۷۳۶۹۰۶۶۷۹۰۶۶۶۲، ۷۳۷۰ ، ۷۵۴۵،۷۵۰۰۔٤٠٢٦ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ :۴۰۲۶ ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا۔حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فَلَيْح بْنِ سُلَيْمَانَ محمد بن فلیح بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔انہوں عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ نے موسیٰ بن عقبہ سے ، موسیٰ نے ابن شہاب سے