صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 86 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 86

صحیح البخاری جلد ۸ ۸۶ ۶۴ - کتاب المغازی الْأَنْصَارُ بِقُدُوْمٍ أَبِي عُبَيْدَةَ فَوَافَوْا اور وہ سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ پڑھنے کے لئے آگئے جب آپؐ نماز سے فارغ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا انْصَرَفَ تَعَرَّضُوْا لَهُ ہوئے تو وہ آپ کے سامنے آ بیٹھے۔ جب رسول اللہ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا تو مسکرائے اور وَسَلَّمَ حِيْنَ رَآهُمْ ثُمَّ قَالَ أَظُنُّكُمْ فرمایا: میں سمجھتا ہوں تم نے سن لیا ہے کہ ابو عبیدہ کچھ لائے ہیں ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں یا رسول الله ! سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدِمَ بِشَيْءٍ آپ نے فرمایا: خوش ہو اور وہی امید رکھو جو تمہیں قَالُوا أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأَبْشِرُوا خوش کر دے۔ اللہ کی قسم ! محتاجی نہیں ہے کہ وَأَمَلُوْا مَا يَسُرُّكُمْ فَوَاللَّهِ مَا الْفَقْرَ جس کا مجھے تمہارے متعلق اندیشہ ہو مگر میں اس أَخْشَى عَلَيْكُمْ وَلَكِنِّي أَخْشَى أَنْ بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں دنیا کی کشائش تم پر اس تُبْسَطَ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا كَمَا بُسِطَتْ طرح ہو جس طرح کہ تم سے پہلوں پر ہوئی اور عَلَى مَنْ قَبْلَكُمْ فَتَنَافَسُوْهَا كَمَا پھر تم اس کی خواہش ایک دوسرے سے بڑھ کر تَنَافَسُوْهَا وَتُهْلِكَكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ۔ اس طرح کرنے لگ جاؤ جس طرح انہوں نے اس کی خواہش کی اور وہ تم کو اسی طرح ہلاک طرفه ۶۴۲۵ کر دے جس طرح ان کو ہلاک کر دیا۔ ٤٠١٦ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ۴۰۱۶: ابو نعمان ( محمد بن فضل ) نے ہم سے بیان جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ کیا کہ جریر بن حازم نے ہمیں بتایا کہ نافع سے عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ يَقْتُلُ مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جو سانپ الْحَيَّاتِ كُلَّهَا ۔ اطرافه ۳۲۹۷، ۳۳۱۰، ۳۳۱۲ بھی دیکھ پاتے مار ڈالتے۔ ٤٠١٧ : حَتَّى حَدَّثَهُ أَبُو لُبَابَةَ ۴۰۱۷ آخر حضرت ابولبابہ بدری نے ان سے الْبَدْرِيُّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں کے وَسَلَّمَ نَهَى مِنْ قَتْلِ جِنَّانِ الْبُيُوتِ سفید پہلے سانپ مارنے سے منع فرمایا ہے۔ پھر وہ فَأَمْسَكَ عَنْهَا ۔ اُن سے رک گئے۔