صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 48
صحیح البخاری جلد ۸ ۴۲۸ ۶۴ - کتاب المغازی ۳۹۷۷: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۳۹۷۷: (عبداللہ بن زبیر) حمیدی نے ہمیں بتایا۔ سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنْ عَطَاءٍ عَنِ سفیان بن عیینہ ) نے ہم سے بیان کیا کہ عمرو (بن دینار ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عطاء بن ابی رباح ) ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: الَّذِينَ سے ، عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللهِ كُفْرًا (إبراهيم: (۲۹) قَالَ روایت کی کہ اللہ تعالیٰ نے جون ، جو فرمایا ہے : ) وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی نعمت کو لینے کی بجائے کفر اختیار هُمْ وَاللَّهِ كُفَّارُ قُرَيْشٍ قَالَ عَمْرُو کیا۔ حضرت ابن عباس کہتے تھے: اللہ کی قسم! یہ هُمْ قُرَيْشٍ وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ لوگ کفار قریش ہیں۔ عمرو بن دینار) نے کہا: ہیں اور وَسَلَّمَ نِعْمَةُ اللهِ ، وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ کفر اختیار کرنے والے) قریش کے لوگ ہیں محمد (صلی الله علم) اللہ کی نعمت ہیں ) ت ہیں (اور یہ جو اس آیت البوار (إبراهيم: ۲۹) قَالَ النَّارَ يَوْمَ بَدْرٍ۔ میں فرمایا:) انہوں نے اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر طرفه: ٢٤٠٠ میں اُتار دیا۔ کہتے تھے: دَارَ الْبَوَارِ سے مراد آگ ہے جس میں جنگ بدر کے روز جا پڑے۔ ۳۹۷۸ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۳۹۷۸ : عبید بن اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيْهِ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن عروہ) سے ، ہشام نے اپنے باپ سے روایت کی۔ قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَفَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ پاس بیان کیا گیا کہ حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذِّبُ فِي عليہ وسلم تک یہ حدیث پہنچاتے ہوئے بیان کیا کہ میت کو اس کی قبر میں اس کے اقرباء کے (اس پر) قَبْرِهِ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ فَقَالَتْ وَهِلَ إِنَّمَا رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔ (یہ سن کر ) قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت عائشہ کہنے لگیں: انہیں بھول ہوئی۔ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَيُعَذِّبُ بِخَطِيئَتِهِ وَذَنْبِهِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا ہے کہ مرنے والے پر عذاب تو اپنی غلطی اور اپنے گناہ وَإِنَّ أَهْلَهُ لَيَبْكُوْنَ عَلَيْهِ الْآنَ۔ اطرافه ۱۲۸۸، ۱۲۸۹ کی وجہ سے ہوتا ہے اور ادھر اس کے اقرباء اس پر روتے ہیں۔