صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 6 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 6

صحیح البخاری جلد ۸ Y ۶۴ - کتاب المغازی وَاللَّهِ لَا أَخْرُجُ مِنْ مَكَّةَ فَلَمَّا كَانَ نے ان سے بیان کیا ہے کہ وہ مجھ کو مارڈالیں گے۔يَوْمُ بَدْرٍ اسْتَنْفَرَ أَبُو جَهْلِ النَّاسَ میں نے پوچھا کہ مکہ میں ؟ تو اس نے جواب دیا: قَالَ أَدْرِكُوا عِيْرَكُمْ فَكَرِهَ أُمَيَّةُ میں نہیں جانتا۔امیہ نے کہا: بخدا! میں مکہ سے نکلوں گا ہی نہیں۔جب بدر کی جنگ ہوئی تو ابو جہل أَنْ يَخْرُجَ فَأَتَاهُ أَبُو جَهْلٍ فَقَالَ يَا نے لوگوں سے جنگ کے لئے نکلنے کو کہا، کہنے لگا: أَبَا صَفْوَانَ إِنَّكَ مَتَى مَا يَرَاكَ النَّاسُ اپنے قافلے کو بچانے کے لئے پہنچو۔امیہ نے نکلنا قَدْ تَخَلَّفْتَ وَأَنْتَ سَيِّدُ أَهْلِ الْوَادِي پسند نہ کیا۔ابو جہل امیہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: تَخَلَّفُوا مَعَكَ فَلَمْ يَزَلْ بِهِ أَبُو جَهْلِ ابو صفوان ! جب لوگ تمہیں دیکھیں گے کہ تم ہی حَتَّى قَالَ أَمَّا إِذْ غَلَبْتَنِي فَوَاللَّهِ پیچھے رہ گئے ہو بحالیکہ تم اہل وادی کے سردار ہو تو وہ بھی تمہارے ساتھ پیچھے رہ جائیں گے۔ابو جہل لَأَشْتَرِيَنَّ أَجْوَدَ بَعِيْرٍ بِمَكَّةَ ثُمَّ قَالَ اسے سمجھاتا رہا، آخر امیہ نے کہا: اچھا اگر تم نے مجبور أُمَيَّةُ يَا أُمَّ صَفْوَانَ جَهِزِيْنِي فَقَالَتْ ہی کرنا ہے تو بخدا! میں مکہ سے ایک نہایت ہی لَهُ يَا أَبَا صَفْوَانَ وَقَدْ نَسِيْتَ مَا قَالَ عمدہ اونٹ خریدوں گا۔اس کے بعد اُمیہ نے کہا: لَكَ أَخُوكَ الْيَغْرِبِيُّ قَالَ لَا مَا أُرِيدُ اتم صفوان ! میرے لئے (سفر کا) سامان تیار کرو، تو وہ اس سے کہنے لگی: تم وہ بات بھول گئے ہو جو تم أَنْ أَجُوْزَ مَعَهُمْ إِلَّا قَرِيْبًا فَلَمَّا خَرَجَ سے تمہارے یثربی بھائی نے کہی تھی؟ کہنے لگا: نہیں، أُمَيَّةُ أَخَذَ لَا يَتْرُكُ مَنْزِلَّا إِلَّا عَقَلَ میں تھوڑی دُور اُن کے ساتھ جانا چاہتا ہوں۔جب بَعِيْرَهُ فَلَمْ يَزَلْ بِذَلِكَ حَتَّى قَتَلَهُ اللَّهُ اُمیہ نکلا تو جس منزل میں بھی اترتا وہاں اپنے اونٹ کا گھٹنا باندھ دیتا۔وہ یہی احتیاط کرتا رہا یہاں تک کہ عَزَّ وَجَلَّ بِبَدْرٍ۔طرفه: ۳۶۳۲ اللہ عزوجل نے بدر میں اس کو ہلاک کر دیا۔تشريح۔ذِكْرُ النَّي لا مَنْ يُقْتَلُ بِبَدْرٍ : اس میں جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کا ذکر ہے کہ بدر کے مقام پر قریش سے جنگ ہوگی اور سردارانِ قریش میں سے فلاں فلاں مارے جائیں گے ، وہاں روایت نمبر ۳۹۵۰ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قریش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے مطمئن نہ تھے بلکہ اسلام کے مٹانے میں اپنی ناکامی محسوس کرتے تھے۔انہوں نے آپ کے قتل کا منصوبہ باندھا،