صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 104
صحیح البخاری جلد ۸ ۱۰۴ ۶۴ - كتاب المغازی الله س أَلَمْ تَعْلَمْنَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ غضب سے نہیں ڈرتیں؟ کیا تم نہیں جانتیں کہ نبی وَسَلَّمَ كَانَ يَقُوْلُ لَا نُوْرَثُ مَا تَرَكْنَا صلى اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ہمارا کوئی وارث صَدَقَةٌ يُرِيدُ بِذَلِكَ نَفْسَهُ إِنَّمَا يَأْكُلُ نہیں ہوتا جو ہم چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے ؟ اس آل مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سے آپؐ کی مراد اپنی ہی ذات تھی، آل محمد صلی الی یوم هَذَا الْمَالِ فَانْتَهَى أَزْوَاجُ النَّبِيِّ اس مال میں سے اپنے کھانے کے لئے لیا کریں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَا گے۔ چنانچہ نبی صلی ﷺ کی ازواج اس کو سن کر جو میں أَخْبَرَتْهُنَّ قَالَ فَكَانَتْ هَذِهِ الصَّدَقَةُ نے ان کو بتایا تھا ترکہ کا حصہ مانگنے سے رک گئیں۔ بِيَدِ عَلِيّ مَنَعَهَا عَلِيٌّ عَبَّاسًا فَغَلَبَهُ عروہ کہتے تھے: یہ صدقہ حضرت علی کے ہاتھ میں رہا، عَلَيْهَا ثُمَّ كَانَ بِيَدِ حَسَنِ بْنِ عَلِيّ حضرت علیؓ نے حضرت عباس کو نہ دیا اور پھر اُن سے زبردستی یہ مال لیا۔ پھر اس کے بعد حضرت حسن بن ثُمَّ بِيَدِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ ثُمَّ بِيَدِ عَلِي علی کے ہاتھ رہا۔ پھر حضرت حسین بن علی کے ہاتھ بْنِ حُسَيْنٍ وَحَسَنِ بْنِ حَسَنٍ كِلَاهُمَا كَانَا يَتَدَاوَلَانِهَا ثُمَّ بِيَدِ زَيْدِ میں، پھر علی بن حسین اور حسن بن حسن کے ہاتھ میں۔ بْنِ حَسَنٍ وَهِيَ صَدَقَةُ رَسُولِ اللهِ دونوں باری بار باری اس کا انتظام کرتے رہے۔ پھر صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا۔ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح طور پر صدقہ رہا۔ اطرافه: ۶۷۳۰،۶۷۲۷ زید بن حسن کے ہاتھ میں رہا اور یہ مال رسول اللہ ٤٠٣٥ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ۴۰۳۵ : ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ہشام نے ہمیں خبر دی کہ معمر نے ہمیں بتایا۔ انہوں الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ نے زہری سے ، زہری نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ وَالْعَبَّاسَ أَتَيَا حضرت فاطمه علیہا السلام اور حضرت عباس دونوں اپنا ورثہ أَبَا بَكْرٍ يَلْتَمِسَانِ مِيْرَانَهُمَا أَرْضَهُ لگنے کے لئے حضرت ابو بکر کے پاس آئے یعنی مِنْ فَدَكَ وَسَهْمَهُ مِنْ خَيْبَرَ ۔ اطرافه: ۶۷۲۵،۴۲۴۰،۳۷۱۱،۳۰۹۲ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ زمین جو فدک میں ہے اور آپ کا وہ حصہ جو خیبر میں ہے۔