صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 47
صحیح البخاری جلد ۶۱ - كتاب المناقب اس واقعہ سے جن اہل تصوف نے ذکر الہی میں رقص و سرود کے جواز کی نسبت استدلال کیا ہے ، ان کا استدلال قیاس مع الفارق ہے۔(فتح الباری جزء 1 صفحہ ۶۷۶) اس تعلق میں کتاب العیدین شرح باب ۳،۲ بھی دیکھئے۔بَاب ١٦ : مَنْ أَحَبَّ أَنْ لَّا يُسَبَّ نَسَبُهُ جو یہ پسند کرے کہ اس کے خاندان کو گالی نہ دی جائے ٣٥٣١ : حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي :۳۵۳۱: عثمان بن ابی شیبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ عبده بن سلیمان) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام سے ، ہشام نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ اللهُ عَنْهَا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ قَالَتِ اسْتَأْذَنَ حَسَّانُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ وہ کہتی تھیں: حسان نے مشرکوں کی ہجو کے لئے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِيْنَ في صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو آپ نے نبی گے! قَالَ كَيْفَ بِنَسَبِي فَقَالَ حَسَّانُ :فرمایا: تم میرے خاندان کو کیونکر بچاؤ لَأَسْأَنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُ الشَّعَرَةُ حضرت حسان نے کہا: میں آپ کو ان سے ایسا مِنَ الْعَجِيْنِ۔وَعَنْ أَبِيْهِ قَالَ ذَهَبْتُ نکالوں گا جیسے بال آٹے سے نکالا جاتا ہے۔نیز أَسْبُ حَسَّانَ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ ہشام نے اپنے باپ سے یہ بھی روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں حضرت عائشہ کے پاس لَا تَسُبَّهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُنَافِعُ عَنِ النَّبِيِّ حان کو برا کہنے لگا تو انہوں نے کہا: اسے بُرا مت کہو کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔اطرافه: ۴۱۴۵، ۶۱۵۰ سے مدافعت کیا کرتا تھا۔: تشريح۔مَنْ أَحَبَّ أَن لَّا يُسَبَ نَسبه: امام مسلم کی ایک روایت ہےجو بسند ابوسلمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ جب قریش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرنے لگے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن رواحہ کو کہلا بھیجا کہ جو ابا ان کی ہجو کی جائے: فَإِنَّهُ أَشَدُّ لرقم عَلَيْهِمْ مِنْ رَّشْقِ بِالنَّبِلِ کیونکہ ہجو تیروں سے بھی زیادہ انہیں چھلنی کرتی ہے۔چنانچہ حضرت ابن رواحہ نے ان کی ہجو کی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند نہیں کی۔پھر حضرت کعب بن مالک کو کہلا بھیجا۔اسی طرح حضرت حسان بن ثابت کو بھی کہلا بھیجا : فَقَالَ قَدْ آنَ لَكُمْ أَن تُرْسِلُوْا إِلَى هَذَا الْأَسَدِ الفَارِبِ بِذَنْبِهِ ثُمَّ