صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 46
صحیح البخاری جلد ۴۶ ۶۱ - كتاب المناقب تُغَنِيَانِ وَتُدَقِّفَانِ وَتَضْرِبَانِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَغَسٌ بِثَوْبِهِ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عقیل سے، عقیل نے شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَبَا ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے عروہ سے ، عروہ بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَخَلَ عَلَيْهَا نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ حضرت ابو بکر وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامٍ مِنِّى رضی اللہ عنہ منی کے دنوں میں ان کے ہاں آئے اور اس وقت ان کے پاس دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور گارہی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنا کپڑا اوڑھے ہوئے تھے تو حضرت ابو بکر نے ان فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ فَكَشَفَ النَّبِيُّ دونوں کو جھڑ کا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَجْهِهِ چہرے سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا: ابوبکر ان کو رہنے دو فَقَالَ دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّهَا أَيَّامُ کیونکہ یہ عید کے دن ہیں اور وہ منی (یعنی دسویں، عِيْدٍ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ أَيَّامُ مِنِّي۔گیارھویں اور بارھویں ذوالحجہ ) کے دن تھے۔اطرافه ،۹۴۹ ، ۹۵۲، ۹۸۷، ۲۹۰۶، ۳۹۳۱۔٣٥٣٠ : وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ ۳۵۳۰ اور حضرت عائشہ کہتی تھیں: میں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي وَأَنَا في صلى اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔آپ مجھے پر دہ کئے نبی ہوئے تھے اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی جبکہ وہ أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ وَهُمْ يَلْعَبُوْنَ فِي مسجد میں کھیل رہے تھے تو حضرت عمر نے ان الْمَسْجِدِ فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ فَقَالَ النَّبِيُّ حبشیوں کو ڈانٹا۔تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُمْ أَمْنًا انہیں کھیلنے دو۔بنی ارفدہ بے فکر ہو کر کھیلتے جاؤ۔أَرْفِدَةَ يَعْنِي مِنَ الْأَمْنِ۔آپ نے أَمْنًا جو فرمایا تو اس سے آپ کی یہ مراد تھی کہ تمہیں کوئی ڈر نہیں، امن سے کھیلتے رہو۔بَنِي اطرافه ۴۵۴، ۴۵۵، ۹۵۰، ۹۸۸، ۲۹۰۷، ۵۱۹۰ ، ۵۲۳۶ ریح: قصة الحبش : اس باب کا تعلق بھی بلحاظ مضمون باب ۱۳ کے مضمون سے ہے۔آنحضرت صلى اللی عوام نے کھیلنے والے حبشیوں کو بنی ارفدہ سے مخاطب فرمایا۔انہیں ان کی قوم کی طرف منسوب کیا گیا ہے جن کا جد امجد ارفدہ نامی شخص تھا۔عید کے موقع پر ان لوگوں نے جنگی قسم کے کرتب دکھائے۔