صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 435
صحیح البخاری جلدی ۴۳۵ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار عَلَيْهِمْ فَقَالُوْا مِثْلَ ذَلِكَ فَخَرَجَ انہیں اس سے بچائے رکھے۔ آپ نے ان سے پھر إِلَيْهِمْ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ وہی کہا اور انہوں نے بھی ویسا ہی جواب دیا۔ اس إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللهِ قَالُوا پر حضرت عبد اللہ ان کے پاس باہر آئے اور کہنے شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا وَتَنَقَّصُوْهُ قَالَ هَذَا لگے: میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ یہودی كُنْتُ أَخَافُ يَا رَسُوْلَ اللهِ۔ کہنے لگے : ہم میں وہ نہایت ہی برا ہے اور نہایت ہی برے کا بیٹا ہے۔ اور لگے ان کی عیب شماری اطرافه: ۳۳۲۹، ۳۹۱۱، ۴۴۸۰ کرنے۔ حضرت عبد اللہ بن سلام نے کہا: یا رسول اللہ ! یہی بات تھی جس سے میں ڈرتا تھا۔ ٣٩٣٩ - ٣٩٤٠: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ۳۹۳۹-۳۹۴۰: علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو کیا کہ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا کہ عمرو سَمِعَ أَبَا الْمِنْهَالِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ (بن دینار) سے روایت ہے۔ انہوں نے ابو منہال مُطْعِمٍ قَالَ بَاعَ شَرِيكَ لِي دَرَاهِمَ فِي عبد الرحمن بن مطعم مطعم سے سنا کہ انہوں نے کہا: السُّوقِ نَسِيْئَةً فَقُلْتُ سُبْحَانَ اللهِ میرے ایک شریک نے بازار میں کچھ درہم ادھار أَيَصْلُحُ هَذَا فَقَالَ سُبْحَانَ اللهِ وَاللهِ بیچے۔ میں نے کہا: سبحان اللہ ! بھلا یہ درست لَقَدْ بِعْتُهَا فِي السُّوْقِ فَمَا عَابَهُ أَحَدٌ ہے؟ وہ بولا سبحان اللہ ! میں نے تو بخدا اسے بازار میں بیچ دیا ہے اور کسی نے بھی یہ معیوب نہیں فَسَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ فَقَالَ قَدِمَ سمجھا۔ پھر میں نے حضرت براء بن عازب سے النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ پوچھا تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ نَتَبَايَعُ هَذَا الْبَيْعَ فَقَالَ مَا كَانَ میں آئے اور ہم اس قسم کی خرید و فروخت آپس يَدًا بِيَدٍ فَلَيْسَ بِهِ بَأْسٌ وَمَا كَانَ میں کیا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: جو تو نقد بہ نقد نَسِيْئَةً فَلَا يَصْلُحُ وَالْقَ زَيْدَ بْنَ ہو اس میں کوئی حرج نہیں اور جو ادھار ہو تو وہ أَرْقَمَ فَاسْأَلْهُ فَإِنَّهُ كَانَ أَعْظَمَنَا تِجَارَةً درست نہیں اور تم زید بن ارقم سے ملو اور ان سے فَسَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَقَالَ مِثْلَهُ پوچھو۔ کیونکہ وہ ہم میں سب سے پرانے تاجر