صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 436
صحیح البخاری جلدے م ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً فَقَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا تھے۔چنانچہ میں نے زید بن ارقم سے پوچھا۔تو النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ انہوں نے بھی اسی طرح کہا اور سفیان نے ایک وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ وَقَالَ نَسِيْئَةً إِلَى باریوں کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے اور ہم اس وقت ادھار پر خرید و فروخت کیا کرتے تھے جو موسم یا کہا حج تک کے وعدے پر ہوتا۔الْمَوْسِمِ أَوِ الْحَجَ۔اطرافه ۲۰۶۰ - ۲۰۶۱، ۲۱۸۰ - ۲۱۸۱، ۲۴۹۷-۲۴۹۸ تشریح: نَسيِّئَة کے معنے ہیں کچھ میعاد کے لئے سود پر لین دین کرنا میبود مدینہ پہ سودی کاروبار ہندو ساہوکاروں کی طرح کیا کرتے تھے اور بہت متمول ہو گئے تھے۔اس تعلق میں دیکھئے كتاب البيوع تشریح باب ۷۰ تا ۸۳ کتاب الشرکہ باب ۱۰۔ابتداء ہجرت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے معاملات میں دخل نہیں دیا بلکہ انہیں سابقہ دستور ہی پر رہنے دیا۔جوں جوں احکام شریعت نازل ہوتے گئے ان کی اصلاح میں تدریج سے کام لیا گیا۔حضرت عبد اللہ بن سلام یہود کے اکابر علماء میں سے تھے۔صحف قدیمہ کی ان پیشگوئیوں سے اچھی طرح واقف تھے جو نبی آخر الزمان کی بعثت سے متعلق انبیاء بنی اسرائیل نے کی ہوئی تھیں۔وہ نیک و پار سا تھے۔ان کا سابقہ نام حصین تھا۔جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تبدیل کیا اور ان کا نام عبد اللہ رکھا گیا۔فتح الباری کتاب مناقب الانصار، شرح باب ۱۹ جزء ے صفحہ ۱۶۴) باب ٥٢ إِثْيَانُ الْيَهُوْدِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب آپ مدینہ میں آئے یہودیوں کا آنا : هَادُوا (البقرة: ٦٣) صَارُوْا يَهُوْدًا هَادُوا کے معنے ہیں یہودی ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے وَأَمَّا قَوْلُهُ: هُدّنَا (الأعراف: ١٥٧) فرمایا ہے: اِنَّا هُدْنَا إِلَيْكَ۔اس میں هُدْنَا کے معنے ہیں تبند یعنی ہم نے رجوع کیا۔هَائِدُ کے تُبْنَا هَائِدٌ تَائِبٌ۔معنے ہیں تائب۔رجوع یا توجہ کرنے والا۔٣٩٤١ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ :۳۹۴۱ مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا قُرَّةُ عَنْ مُّحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ که قره بن خالد ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے محمد