صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 417 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 417

صحیح البخاری جلدے ام ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار شريح : هِجْرَةُ النَّبِي ، وَأَصْحَابِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ : ہجرت سے اصل غرض دین توحید ل کی حفاظت اور فرض رسالت کی کماحقہ ادائیگی تھی۔سرولیم میور نے بھی یہ امر کھلے الفاظ میں تسلیم کیا ہے کہ جس وقت یہ ہجرت ہوئی ہے وہ اگر نہ ہوتی تو دین توحید کی موت کا خطرہ تھا اور اس کے نتیجے میں شرک کا ہمیشہ کے لئے غلبہ ہو جاتا۔اس تعلق میں ان کا تبصرہ مفصل اور قابل قدر ہے۔اس میں انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صبر و استقلال اور عزم و ہمت بے مثل کی داد دی ہے۔یہ حصہ ان کے اپنے الفاظ میں پڑھنے کے قابل ہے۔صرف ایک دو اقتباس ذیل میں نقل کئے جاتے ہیں۔اس سے زیر باب روایات کے سمجھنے میں مدد ملے گی۔جو تعداد میں ستائیں ہیں۔ان سے آپ کی اور آپ کے مٹھی بھر ساتھیوں کی بے بسی اور ان کا عزم غیر متزلزل عیاں ہے وہ لکھتے ہیں: "The position of the Arabian prophet now was critical۔He must either gain the ascendancy at Mecca, abandon his prophetical claims, or perish in the struggle۔Islam must either destroy idolatry, or idolatry must destroy Islam۔Things could not remain stationary۔His followers, though devotedly attached and numbering a few once influential citizens, Were but a handful against a host; Open hostilities, notwithstanding every endeavour to prevent them, might any day bc precipitated, and ruin irretrievably his cause۔The new faith had not been gaining ground at Mecca۔There had been no conversions, none at least of any note, since those of Omar and Hamza, three or four years before۔A few more years of similar discouragement, and his chance of success was gone۔" (The Life of Mahomet, Chapter 6th: The Biography of Mahomet, Critical Position of Mahomet, Vol: 2, page: 197,198) ترجمہ: رسولِ عربی (صلی میم ) اس وقت نہایت نازک حالات سے گذر رہے تھے۔مکہ میں رہتے ہوئے ان کے سامنے دو ہی راستے تھے۔یا تو اپنے دعویٰ نبوت کو چھوڑ دیں یا اس مخالفت میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔یعنی یا تو اسلام کو بت پرستی منافی ہوگی یا بت پرستی اسلام کو مٹا دے گی۔دونوں کا اکٹھے رہنا ممکن نہ رہا تھا۔آپ کے صحابہ اگر چہ آپ پر جان نچھاور کرنے والے تھے