صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 390 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 390

صحیح البخاری جلدی ۳۹۰ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار عَنْ عَبْدِ خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ صلى الله علیہ وسلم تو ایسے بندے کے متعلق خبر زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ وَهُوَ دے رہے ہیں کہ جس کو اللہ نے اختیار دیا ہے کہ يَقُوْلُ فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا فَكَانَ یا وہ دنیا کی زیبائش اس کو دے یا وہ جو اس کے رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پاس ہے وہ لے اور یہ کہتا ہے: ہمارے ماں باپ هُوَ الْمُخَيَّرَ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ هُوَ آپ پر قربان۔ تو اصل میں رسول اللہ صلی اللہ أَعْلَمَنَا بِهِ وَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّی اللہ علیہ وسلم ہی وہ تھے جن کو اختیار اختیار دیا گیا تھا تھا اور حضرت ابوبکر ہم سب سے زیادہ اس بات کو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَمَنِ النَّاسِ سمجھنے والے تھے اور رسول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبَا بَكْرٍ نے فرمایا: تمام لوگوں سے بڑھ کر مجھ پر احسان وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذَا خَلِيْلًا مِنْ أُمَّتِي کرنے والا کیا بلحاظ رفاقت اور کیا بلحاظ مال خرچ لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ إِلَّا خُلَّةَ الْإِسْلَامِ کرنے کے ابو بکر ہے اور اگر میں نے اپنی امت لَا يَبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ خَوْخَةٌ إِلَّا میں کسی کو جانی دوست بنانا ہوتا تو ضرور میں خَوْحَةُ أَبِي بَكْرٍ۔ اطرافه: ۴۶۶، ۳۶۵۴ ابو بکر کو بناتا ۔ اب صرف اسلام ہی کی دوستی ہے۔ مسجد میں کوئی کھڑ کی نہ رہے سوائے ابو بکر (کے مکان) کی کھڑکی کے۔ ٣٩٠٥ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۳۹۰۵ : یحییٰ بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ قَالَ ابْنُ (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ لیث نے عقیل سے شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ روایت کی کہ ابن شہاب نے کہا کہ عروہ بن زبیر نے مجھے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرم حضرت أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: جب سے میں نے النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ اپنے ماں باپ کے متعلق ہوش سنبھالی ہے وہ اس لَمْ أَعْقِلْ أَبَوَيْ قَطُّ إِلَّا وَهُمَا يَدِيْنَانِ دین کے پابند تھے اور ہم پر کوئی بھی دن نہ گزرتا الدِّينَ وَلَمْ يَمُرَّ عَلَيْنَا يَوْمٌ إِلَّا يَأْتِينَا تھا کہ جس میں ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ فِيْهِ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ علیہ وسلم دونوں وقت صبح اور شام نہ آتے ہوں۔