صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 29 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 29

صحیح البخاری جلد ۲۹ ۶۱ - كتاب المناقب وَمُزَيْنَةَ وَأَحْسِبُهُ وَجُهَيْئَةَ ابْنُ أَبِي تھے۔عبد الرحمن نے کہا: میں سمجھتا ہوں، انہوں يَعْقُوْبَ شَكٍّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله نے جہینہ کا بھی ذکر کیا۔( محمد ) بن ابی یعقوب نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ أَسْلَمُ اس میں شک کیا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھلا بتاؤ اگر اسلم، غفار، مزینہ اور میں سمجھتا ہوں وَغِفَارُ وَمُزَيْنَهُ وَأَحْسِبُهُ وَجُهَيْنَةً خَيْرًا کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جہینہ؛ بنو تمیم، مِنْ بَنِي تَمِيمٍ وَبَنِي عَامِرٍ وَأَسَدٍ بنو عامر، اسد اور غطفان سے بہتر ہوں تو کیا یہ وَغَطَفَانَ حَابُوْا وَخَسِرُوْا قَالَ نَعَمْ نامراد اور گھاٹے میں رہے! (ہرگز نہیں۔) قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُمْ لَأَخْيَرُ امرغ نے کہا: حضور کا ارشاد ہے۔آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری مِنْهُمْ۔اطرافه: ۳۵۱۵، ۶۶۳۵- جان ہے کہ وہ ضرور ان سے بہتر ہیں۔٣٥١٦م: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بنُ :۳۵۱۶م سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا۔حَرْبٍ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ حماد بن زید) سے روایت ہے۔انہوں نے مُّحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ایوب سے، ایوب نے محمد (بن سیرین) سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے قَالَ قَالَ أَسْلَمُ وَغِفَارُ وَشَيْءٌ مِنْ روایت کی۔انہوں نے کہا: آنحضرت نے فرمایا: مُّزَيْنَةَ وَجُهَيْئَةَ أَوْ قَالَ شَيْءٍ مِنْ اسلم اور غفار، مزینہ اور جہینہ میں سے بعض جُهَيْنَةَ أَوْ مُزَيْنَةَ خَيْرٌ عِنْدَ اللهِ أَوْ لوگ یا فرمایا: جہینہ میں سے یا مزینہ میں سے کچھ قَالَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَسَدٍ وَتَمِيْمٍ لوگ اللہ کے نزدیک بہتر ہوں۔یا فرمایا: قیامت کے دن اسد ، تمیم، ہوازن اور غطفان وَهَوَازِنَ وَغَطَفَانَ۔سے بہتر ہوں۔تشريح۔طاقتور تھے۔ان کا رعب و دبدبہ باقی قبائل پر تھا۔قبیلہ بنی عامر بن صعصعہ اور قبیلہ بنی تمیم کمزور تھے۔جب اسلام آیا تو مذکورہ بالا قبائل نے اسے جلدی سے قبول کیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سابقہ کھوئی ہوئی قوت و طاقت اور برتری ان میں دوبارہ عود کر آئی۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۶۶۴) ذِكْرُ أَسْلَمَ وَغِفار۔۔۔۔: قبائل اسلم، غفار، مزینہ ، جہینہ اور اشجع زمانہ جاہلیت میں بڑے