صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 385
صحیح البخاری جلدی ۳۸۵ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار باب ٤٥ هِجْرَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ اور حضرت عبد اللہ بن زید اور حضرت ابوہریرہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ لَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ روایت کرتے ہوئے بتایا کہ (آپؐ نے فرمایا:) امْرَأَ مِنَ الْأَنْصَارِ۔ وَقَالَ أَبُو مُوسَی اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی ضرور انصار سے ہی عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ایک آدمی ہوتا اور حضرت ابو موسی اشعری) رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَّكَّةَ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ آپ نے إِلَى أَرْضٍ بِهَا نَخْلٌ فَذَهَبَ وَهَلِي رحم فرمایا: میں نے خواب میں دیکھ دیکھا کہ میں مکہ سے ایک ایسی زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں جس إِلَى أَنَّهَا الْيَمَامَةُ أَوْ هَجَرُ فَإِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبُ۔ میں کھجوریں ہیں۔ اس سے میرا خیال اس طرف گیا کہ وہ بیمامہ ہے یا ہجر مگر وہ مدینہ یثرب تھا۔ ۳۸۹۷: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۳۸۹۷: (عبد اللہ بن زبیر ) حمیدی نے ہم سے سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ قَالَ سَمِعْتُ بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ امش أَبَا وَائِلٍ يَقُوْلُ عُدْنَا خَبَّابًا فَقَالَ نے ہم سے بیان کیا کہ ابو وائل (شقیق بن هَا جَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے میں نے سنا کہتے تھے کہ ہم حضرت خباب بن ارت ) کی عیادت کے لئے گئے تو انہوں نے وَسَلَّمَ نُرِيدُ وَجْهَ اللَّهِ فَوَقَعَ أَجْرُنَا بن سلمه ) کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نے ہجرت عَلَى اللَّهِ فَمِنَّا مَنْ مَّضَى لَمْ يَأْخُذْ کی۔ ہم اللہ کی رضا مندی چاہتے تھے اور ہمارا اجر مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِّنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ اللہ کے ذمہ ہوگا ، ذمہ ہو گیا۔ ہم میں سے بعض وہ ہیں جو چلے عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ نَمِرَةً فَكُنَّا گئے۔ انہوں نے (اس دنیا میں سے ) کچھ نہ لیا۔ إِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ ان میں سے حضرت مصعب بن عمیر ہیں جو اُحد