صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 384
صحیح البخاری جلدے ۳۸۴ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار حضرت ابو بکر صدیق کی لڑکی عائشہ ہے اور بیوہ سودہ بنت زمعہ ہے۔جو آپ کے خادم سکران بن عمر و مرحوم کی بیوہ ہے۔سکران مکہ مکرمہ میں حبشہ سے واپس ہونے پر فوت ہو گئے تھے اور ان کی بیوہ قابل رحم حالت میں تھیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خولہ کی تجویز منظور کی اور فرمایا کہ ان سے بات کی جائے۔حضرت ابو بکر اور سودہ دونوں کی طرف سے خولہ کی تجویز منظور کی گئی۔حضرت سودہ عمر رسیدہ تھیں۔آپ نے ان کے نکاح کو مقدم رکھا منظور اور حضرت عائشہ سے نکاح کی تجویز بھی بوجہ حضرت ابو بکر کے دوستانہ تعلقات اور ایک خواب کی بناء پر فرمائی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ کی زندگی میں دوسرا نکاح نہیں کیا اور یہ عرصہ کم و بیش پچیں سال کا بنتا ہے۔لیکن حضرت خدیجہ کی وفات کے دو اڑھائی ماہ بعد ضرورت حقہ کی بناء پر ایک بیوہ اور ایک کنواری عورت سے نکاح کو منظور فرمایا۔ان دونوں عورتوں سے نکاح کرنے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں نیک جذبات کار فرما تھے۔ایک میں اپنے وفادار دوست کے ساتھ تعلقات محبت و خلوص کا اظہار اور دوسرے میں کسمپرس بیوہ کے ساتھ شفقت کا جذبہ۔یہ امر ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت سودہ سے نکاح کرنا ایک زبر دست قربانی تھی جو آپ حالات پیش آمدہ کے ماتحت دے رہے تھے۔حضرت عائشہ کے ساتھ نکاح اپنے اندر بہت سی حکمتیں لئے ہوئے تھا۔حضرت عائشہ غیر معمولی ذہین تھیں اور آغوش اسلام میں بچپن ہی سے تربیت پانے کی وجہ سے اس قابل تھیں کہ اسلامی تعلیمات کو سیکھ کر اعلیٰ درجہ کی دینی معلمہ بن سکیں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آنے کے بعد حضرت عائشہ ایک اعلیٰ پایہ کی معلمہ خاتون ثابت ہوئیں۔نہ صرف علم دین وفقہ ہی میں وہ قابل تھیں بلکہ سیاسی امور میں بھی انہیں خاصی رسائی تھی۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق اپنی تصنیف سيرة خاتم النبیین حصہ اول ( صفحہ ۴۳۰ - ۴۳۱) میں بہت عمدہ تتجرہ کیا ہے۔آپ نے زاد المعاد کا بھی ایک حوالہ نقل کیا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: وَكَانَ الْأَكَابِرُ مِنْ أَصْحَابِ النّبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْجِعُونَ إِلَى قَوْلِهَا وَيَسْتَفْتُونَها - (زاد المعاد في هدى خير العباد، فصل في أزواجه، جزء اول صفحه (۱۰۳) یعنی بڑے بڑے صحابہ کرام فتوی و مسائل دین میں حضرت عائشہ کی طرف رجوع کیا کرتے تھے اور اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ایک مشہور قول ہے کہ نصف دین عائشہ سے سیکھو۔(النهایة فی غریب الحديث والأثر، باب الحاء مع الميم) اور حضرت عائشہ نے عورتوں سے متعلق مسائل اور عورتوں کی تعلیم و تربیت میں فی الواقع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ بٹایا اور اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب پوری ہوئی کہ مشیت الہی ہی سے آپ کا نکاح حضرت عائشہ سے ایک اعلیٰ مقصد کے لئے مقدر تھا۔حضرت عائشہ کی عمر سے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف لطیف نور القرآن نمبر ۲ (روحانی خزائن جلد 9 صفحہ ۳۷۷ تا ۳۸۰) بھی دیکھئے۔