صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 383
صحیح البخاری جلدی عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ۔ ۳۸۳ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار کہ وہ تم ہو۔ میں کہا کرتا تھا کہ } اگر یہ رؤیا اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے پورا کر دے گا۔ اطرافه: ۵۰۷۸، ۵۱۲۵، ۷۰۱۱، ۷۰۱۲ ٣٨٩٦ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۳۸۹۶: عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيْهِ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام (بن قَالَ تُوُفِّيَتْ خَدِيجَةُ قَبْلَ مَخْرَجِ عروہ) سے ، ہشام نے اپنے باپ سے روایت کی۔ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى انہوں نے کہا: حضرت خدیجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم الْمَدِينَةِ بِثَلَاثِ سِنِينَ فَلَبِثَ سَنَتَيْنِ کے مدینہ جانے سے تین سال پہلے فوت ہو گئی أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ وَنَكَحَ عَائِشَةَ تھیں۔ آپ دو برس یا اس کے قریب قریب (مکہ وَهِيَ بِنْتُ سِيِّ سِنِينَ ثُمَّ بَنَى بِهَا میں ٹھہرے اور پھر حضرت عائشہ سے نکاح کیا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ۔ اطرافه: ۳۸۹۴، ۰۵۱۳۳ ۵۱۳۴، ۵۱۵۶، ۵۱۵۸، ۵۱۶۰ جبکہ وہ چھ برس کی تھیں۔ پھر آپ ان کو اپنے گھر لائے اور وہ نو سال کی تھیں۔ تشريح : تَزْوِيحُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةً ۔۔۔۔ اس تعلق میں امام بخاری نے تین روایتیں بیان کی ہیں۔ جن کا خلاصہ یہ ہے کہ نکاح کے وقت حضرت عائشہ کی عمر چھ سال تھی۔ ہجرت کے بعد ان کار خصتانہ مدینہ میں ہوا جبکہ وہ مکہ سے باقی ماندہ مہاجرین کے ساتھ لائی گئیں۔ بوقت بلوغت و رخصتانہ وہ عمر میں نو سال کی تھیں۔ یہ امر واقع ہے کہ گرم ممالک کی لڑکیاں جلدی بالغ ہو جاتی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد اپنے نکاح سے متعلق خاموش رہے۔ آپؐ ان کی جدائی جدا کے صدمہ سے غمگین تھے۔ آپؐ کے ہمدرد ۔ تھے۔ آپ کے ہمدرد چچا حضرت ابو طالب کا سہارا بھی نہ رہا۔ انتہائی مشکلات کا زمانہ تھا۔ حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد آپ کے سونے گھر میں آپ کی بیٹی حضرت فاطمہ تھیں۔ یہ حال دیکھ کر حضرت خولہ حکیم زوجه زوجہ حضرت عثمان بن مظعون کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کو نہ شادی کرنے کی تحریک کی جائے۔ چنانچہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا۔ یا رسول اللہ ! آپ بنت شادی کیوں نہیں کر لیتے ؟ آپ نے فرمایا: کس سے کروں؟ انہوں نے عرض کیا کہ آپ چاہیں تو کنواری لڑکی بھی موجود ہے اور بیوہ عورت بھی۔ آپ نے فرمایا۔ کون ؟ حضرت خولہ نے عرض کیا کہ کنواری تو آپ کے عزیز دوست