صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 373
صحیح البخاری جلدی ۳۷۳ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار نَادَى مُنَادٍ أَمْضَيْتُ فَرِيْضَتِي کر چکا ہوں۔ اس لئے آپ پھر اپنے رب کے پاس وَخَفَّفْتُ عَنْ عِبَادِي۔ جائیں اور اس سے درخواست کریں کہ آپ کی امت کیلئے کم کر دے۔ آنحضرت صلی الم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے اس قدر درخواستیں کی ہیں کہ میں شرمندہ ہوں۔ اب میں اس پر راضی ہوں اور اطرافه: ۳۲۰۷، ۳۳۹۳، ۳۴۳۰ س اس کو تسلیم کرتا ہوں۔ آ ہم کرتا ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علم رت صلی علیہم نے فرمایا: جب میں آگے بڑھا تو پکارنے والے نے پکارا کہ میں نے جو کچھ مقرر کیا ہوا تھا اس کو نافذ کر دیا ہے اور اپنے بندوں سے تخفیف بھی کر دی ہے۔ ۳۸۸۸: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۳۸۸۸ حمیدی نے ہمیں بتایا کہ سفیان سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا۔ عمر و بن دینار ) ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ نے ہمیں بتایا۔ عکرمہ رمہ سے روایت۔ روایت ہے کہ انہوں تَعَالَى: وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا التِي أَرَيْنَكَ إِلَّا نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ فِتْنَةً لِلنَّاسِ (بنى إسرائيل: ٦١) قَالَ کے قول وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا کے متعلق روایت کی۔ یعنی وہ رویا جو ہم نے تمہیں دکھلائی وہ اس لئے هِيَ رُؤْيَا عَيْنٍ أُرِيَهَا رَسُوْلُ اللَّهِ دکھلائی کہ لوگوں کیلئے اسے آزمائش بنائیں حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ ابن عباس نے کہا: یہ رویا آنکھ کا دیکھنا ہے جو إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ وَالشَّجَرَةَ رسول اللہ صلی اللہ علیم کو اس رات دکھلایا گیا جس میں الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْآنِ هِيَ شَجَرَةُ آپ کو بیت المقدس تک سیر کروائی گئی۔ حضرت ابن عباس نے کہا اور شجرہ ملعونہ جس کا ذکر الرَّقُوْمِ۔ اطرافه: ۴۷۱۶، ۶۶۱۳ قرآن مجید میں کیا گیا ہے وہ زقوم کا درخت ہے۔ تشریح : الْمِعْرَاجُج: امام بخاری نے اسراء بخاری نے اسراء اور معراج کے واقعات بیان کرنے کے لئے دو علیحدہ علیحدہ عنوان قائم کئے ہیں۔ ابن دحیہ نے اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ امام بخاری کے نزدیک اسراء