صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 363 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 363

صحیح البخاری جلدی ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ بن خباب سے ، انہوں نے حضرت ابو سعید خدری النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذُكِرَ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے نبی عِنْدَهُ عَمُّهُ فَقَالَ لَعَلَّهُ تَنْفَعُهُ شَفَاعَتِي صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ جب آپؐ کے پاس آپ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُجْعَلَ فِي ضَحْضَاحِ کے چچا کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: شاید میری شفاعت قیامت کے دن ان کو فائدہ دے دے مِنَ النَّارِ يَبْلُغُ كَعْبَيْهِ يَغْلِي مِنْهُ دِمَاغُهُ۔ اور ان کو اتنی آگ میں رکھا جائے جو ان کے ٹخنوں تک پہنچے جس سے ان کا بھیجا کھولے گا۔ {حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنَا {ابراہیم بن حمزہ نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابی ابْنُ أَبِي حَازِمٍ وَالدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ يَزِيدَ حازم اور در اور دی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یزید بِهَذَا وَقَالَ تَغْلِي مِنْهُ أُمُّ دِمَاغِهِ }۔ سے روایت کرتے ہوئے یہی حدیث بتائی اور انہوں نے کہا کہ ان کے دماغ کی کھوپڑی آگ طرفه: ۶۵۶۴ سے اہلے گی۔} تشریح: قصة أبي طالب : گزشتہ باب میں یہ ذکر آچکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق کرنے کے لئے مشرکین نے ایک منصوبہ بنایا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب کو جب کفار کے اس منصوبے کا علم ہوا تو انہوں نے قبیلہ عبد مناف کے خاندان بنی ہاشم و بنی مطلب کو اکٹھا کیا اور مشورہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کا فیصلہ کیا اور انہوں نے شعب ابی طالب میں آپ کو پناہ دی۔ کفار قریش نے دونوں خاندانوں سے مقاطعہ کا فیصلہ کیا تا وقتیکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے حوالہ نہ کر دیئے جائیں اور اس تعلق میں ایک تحریری معاہدہ لکھ کر کعبہ میں لٹکایا گیا۔ جس پر رؤسائے مکہ کے دستخط تھے۔ شعب ابی طالب میں محصور ہونے والوں میں مسلم و غیر مسلم دونوں شامل تھے۔ ان کا یہ اتحاد ، خاندانی حمیت کا نتیجہ تھا۔ مقاطعہ کی وجہ سے سب نے بھوک و پیاس وغیرہ کی تکالیف برداشت کیں۔ اس واقعہ مقاطعہ کا ذکر الگ اپنے موقع پر آئے گا۔ نجاشی کے بعد ابو طالب کے واقعہ کا ذکر بے محل نہیں۔ شاہ حبش اپنے اظہار کلمہ توحید و اقرار اسلام سے اللہ تعالیٰ کی مغفرت و رحمت کا مستحق ہوا۔ اس کے برخلاف ابو طالب عدم اقرار کی وجہ سے مغفرت سے محروم رہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا اور احکام شریعت کا پاس رکھا اور رحمی جذبات میں بہہ نہیں گئے۔ اللہ تعالیٰ 1) یہ عبارت عمدۃ القاری کے مطابق ہے۔ (عمدۃ القاری جزء۷ | صفحہ ۱۹،۱۸)