صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 359
صحیح البخاری جلدی ۳۵۹ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ باپ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح ( بن کیسان) حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی وَابْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ کہ انہوں نے کہا: ابو سلمہ بن عبدالرحمن اور اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ابن مسیب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو بتایا۔ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى لَهُمُ النَّجَاشِيَّ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ فِي الْيَوْمِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی شاہ حبشہ کی موت کی خبر اس دن دی جس دن کہ وہ فوت الَّذِي مَاتَ فِيْهِ وَقَالَ اسْتَغْفِرُوا لأَخِيكُمْ۔ اطرافه ۱۲۴۵، ۱۳۱۸ ، ۱۳۲۷، ۱۳۲۸، ۱۳۳۳، ۳۸۸۱ ہوا اور آپ نے فرمایا: اپنے بھائی کے لئے تم دعائے مغفرت کرو۔ ۳۸۸۱: وَعَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ۳۸۸۱ اور (اسی سند سے) صالح (بن کیسان) قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ سے مروی ہے۔ صالح نے ابن شہاب سے روایت أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُمْ أَنَّ کی ۔ انہوں نے کہا: سعید بن مسیب نے مجھ سے رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بیان کیا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید گاہ صَفَّ بِهِمْ فِي الْمُصَلَّى فَصَلَّى عَلَيْهِ میں لوگوں کو صف بستہ کھڑا کیا اور پھر نجاشی کا جنازہ پڑھایا اور آپ نے چار تکبیریں کہیں۔ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا ۔ اطرافه: ۱۳۴۵ ، ۱۳۱۸ ، ۱۳۲۷، ۱۳۲۸، ۱۳۳۳، ۳۸۸۰ تشريح : مَوْتُ النَّجَاشِي: اس باب اور اس اس ۔ کی چار روایات کے تعلق میں دیکھئے کتاب الجنائز تشریح باب ۴ روایت نمبر ۱۲۴۵ اور باب ۶۴ روایت نمبر ۱۳۳۴۔ نجاشی کا جنازہ پڑھنے کے تعلق میں فقہاء کی طرف سے یہ بحث اٹھانا کہ آیا وہ مسلمان تھا یا نہیں غیر مناسب ہے۔ اول تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے بعد یہ سوال اٹھانا سوء ادب ہے۔ ہم کون ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کے متعلق جو از یا عدم جواز کی بحث چھیڑیں۔ نجاشی مرحوم کا اظہار حسن عقیدہ اور اس کا حسن سلوک ہی دعائے مغفرت و رحمت کا متقاضی تھا۔ قطع نظر اس سے کہ ثابت ہو یا نہ ہو کہ وہ مسلمانوں کی طرح ارکان اسلام کا پابند تھا یا نہیں۔ یہ بات یقینی ہے کہ وہ توحید کا قائل تھا اور آج کل کے عقیدہ تثلیث و الوہیت مسیح کا منکر۔ علاوہ ازیں جو تبلیغی خطوط آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شابان ممالک کو لکھے ان میں نجاشی شاہ حبشہ کے نام بھی آپ کا ایک خط ہے جس کا