صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 26
صحیح البخاری جلد ۲۶ ۶۱ - كتاب المناقب ٣٥١١ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۳۵۱۱ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب : شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمِ بْن نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے ، زہری نے عَبْدِ اللهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ سالم بن عبد اللہ سے روایت کی کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جبکہ آپ منبر رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ وَهُوَ پر تھے۔آپ فرماتے تھے: دیکھو فتنہ یہاں سے عَلَى الْمِنْبَرِ أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا ہوگا۔آپ مشرق کی طرف اشارہ کرتے تھے يُشِيرُ إِلَى الْمَشْرِقِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ جہاں سے شیطان کا سینگ نکلے گا۔قَرْنُ الشَّيْطَانِ۔اطرافه : ۳۱۰۴ ، ۳۲۷۹، ۵۲۹۶، ۷۰۹۲، ۷۰۹۳- تشریح یہ باب بلا عنوان ہے۔جس سے ظاہر ہے کہ اس کا تعلق بلحاظ مضمون سابقہ باب سے ہی ہے۔اس کے تحت چار روایتیں ہیں۔ان میں سے پہلی بلحاظ مضمون گذر چکی ہے۔دہرانے سے یہ ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ انذار شدید کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان سے بعید تھا کہ اسلم بن افضی و غیره یو نہی بلا وجہ عدنان شمار کئے جاتے۔تیسری روایت کتاب الایمان باب ۴۰ اور کتاب العلم باب ۲۵ میں بھی گذر چکی ہے۔اس سے یہ بتایا گیا ہے کہ اکثر قبائل عرب یا ربیعہ کی شاخیں ہیں یا مضر کی۔اور یہ کہ ان میں سے کسی کے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی طرف منسوب ہونے میں کوئی اچنبھا بات نہیں، سبھی متفق ہیں۔اس باب کی چوتھی روایت بابا میں بھی گذر چکی ہے۔(دیکھئے روایت نمبر ۳۲۹۸) آگے کتاب الفتن باب ۱۶ میں بھی آئے گی۔بَاب ٦ : ذِكْرُ أَسْلَمَ وَغِفَارَ وَمُزَيْنَةَ وَجُهَيْنَةَ وَأَشْجَعَ اسلم، غفار ، مزینہ ،جہینہ اور اشجع (قبیلوں) کا ذکر ٣٥١٢: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا :۳۵۱۲: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيْمَ عَنْ ہمیں بتایا۔انہوں نے سعد بن ابراہیم سے، سعد عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْن هُرْمُزَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ نے عبد الرحمن بن ہرمز سے، عبد الرحمن نے