صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 354
صحیح البخاری جلدی ۳۵۴ ۳- كتاب مناقب الأنصار عَلِيًّا أَنْ يَجْلِدَهُ وَكَانَ هُوَ يَجْلِدُهُ بات جو تم نے ولید بن عقبہ کے متعلق ذکر کی ہے وَقَالَ يُونُسُ وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ عَنِ اس کے متعلق جو واجب ہے وہ ہم انشاء اللہ ضرور الزُّهْرِيِّ أَفَلَيْسَ لِي عَلَيْكُمْ مِنَ الْحَقِّ کریں گے۔ عبید اللہ کہتے تھے: چنانچہ حضرت عثمان مِثْلُ الَّذِي كَانَ لَهُمْ۔ نے ولید کو چالیس کوڑے لگوائے اور حضرت علیؓ کو اسے کوڑے لگانے کا حکم دیا اور وہی اس کو کوڑے مار رہے تھے۔ یونس اور زہری کے بھتیجے نے زہری سے روایت کرتے ہوئے یہ الفاظ روایت کئے: پھر کیا میرا تم پر ویسا حق نہیں جیسا ان کا تھا۔ قَالَ أَبُو عَبْد الله : بَلَاءٌ مِنْ ابو عبد الله ( امام بخاری) نے کہا : بَلَا مِنْ رَبِّكُمْ ربَّكُم (البقرة : ٥٠) مَا ابْتُلِيتُمْ بِهِ مِنْ سے مراد وہ معاملہ ) ہے جس سے تم شدید آزمائے شِدَّةٍ وَفِي مَوْضِعِ الْبَلَاءُ الْإِبْتِلَاءُ گئے۔ اور لفظ البلاء آزمائش میں ڈالنے اور خالص بنانے کے معانی میں بھی آیا ہے۔ مَنْ بَلَوْتُهُ وَالتَّمْحِيْصُ مَنْ بَلَوْتُهُ وَمَخَصْتُهُ أَيْ وَمَخَصْتُہ کے معنی ہیں کہ جو کچھ اس کے اندر تھا اسْتَخْرَجْتُ مَا عِنْدَهُ يَبْلُوْ يَخْتَبِرُ، میں نے اسے باہر نکال لیا۔ نیٹو کے معانی ہیں مبتليكم (البقرة: ٢٥٠) مُخْتَبِرُكُمْ وَأَمَّا وہ جانچتا ہے۔ مُبْتَلِيكُمْ کے معانی ہیں تمہیں قَوْلُهُ بَلَاءٌ عَظِيمُ النِّعَمُ وَهِيَ مِنْ آزمانے والا ۔ اور اللہ تعالیٰ کا قول بَلاءُ عَظِيمُ نعماء سے متعلق ہے اور یہ أَبليتہ سے ہے۔ اور وہ أَبْلَيْتُهُ وَتِلْكَ مِنَ ابْتَلَيْتُهُ۔ اطرافه: ۳۶۹۶، ۳۹۲۷ یعنی لفظ ابتلاء) ابْتَلَیتُہ سے ہے۔ ۳۸۷۳ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۳۸۷۳ محمد بن مثنیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ بچی حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي (بن سعید قطان ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام أَبِي عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ ( بن عروہ) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے أُمَّ حَبِيبَةَ وَأَمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَنَا كَنِيسَةً روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ حضرت ام حبیبہ رَأَيْنَهَا بِالْحَبَشَةِ فِيْهَا تَصَاوِيْرُ فَذَكَرَنَا اور حضرت ام سلمہ نے ایک گرجا کا ذکر کیا جسے م