صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 344
صحیح البخاری جلدی یم سمسم ۶۳- كتاب مناقب الأنصار فَقَالُوْا نُرِيدُ هَذَا ابْنَ الْخَطَّابِ الَّذِي بہ رہی تھی۔ (بھر پور تھی) عاص نے پوچھا: کہاں صَبَأَ قَالَ لَا سَبِيْلَ إِلَيْهِ فَكَرَّ النَّاسُ کا قصد ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہم اس خطاب کے بیٹے کی طرف جارہے ہیں جو بے دین ہو گیا ہے۔ طرفه: ۳۸۶۵ انہوں نے کہا: اس کے پاس نہیں جانا۔ یہ سن کر لوگ واپس ہو گئے۔ ٣٨٦٥ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۳۸۶۵ : علی بن عبد الله (المدینی ) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ کیا کہ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں سَمِعْتُهُ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ نے کہا: میں نے عمرو بن دینار سے سنا۔ کہتے تھے : رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جب حضرت عمرؓ مسلمان ہوئے تو لوگ ان کے گھر کے اجْتَمَعَ النَّاسُ عِنْدَ دَارِهِ وَقَالُوْا صَبَا پاس اکٹھے ہو گئے اور کہنے لگے : عمر بے دین ہو گیا عُمَرُ وَأَنَا غُلَامٌ فَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِي ہے۔ اس وقت میں لڑکا تھا۔ اپنے گھر کی چھت فَجَاءَ رَجُلٌ عَلَيْهِ فَبَاءٌ مِنْ دِيبَاجٍ پر بیٹھا ہوا تھا۔ اتنے میں ایک شخص آیا جس نے فَقَالَ قَدْ صَبَا عُمَرُ فَمَا ذَاكَ فَأَنَا ریشمی چوغہ پہنا ہوا تھا وہ کہنے لگا: اگر عمرؓ نے اپنا لَهُ جَارٌ قَالَ فَرَأَيْتُ النَّاسَ تَصَدَّعُوا دین بدل لیا ہے تو پھر کیا ہوا۔ میں اس کو پناہ دیتا عَنْهُ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا الْعَاصِ ہوں۔ حضرت عبداللہ بن عمر کہتے ہیں:) میں بْنُ وَائِلٍ۔ طرفه ۳۸۶۴ نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اس پر حضرت عمرؓ کے گھر سے ہٹ گئے۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: عاص بن وائل۔ ٣٨٦٦ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ٣٨٢٦: يحي بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي (عبد اللہ بن وہب نے مجھ سے بیان کیا، کہا کہ عمر ( بن محمد بن زید ) نے مجھ سے بیان کیا کہ سالم عُمَرُ أَنَّ سَالِمًا حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ نے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت کرتے ہوئے بْنِ عُمَرَ قَالَ مَا سَمِعْتُ عُمَرَ لِشَيْءٍ ان کو بتایا، کہا: میں نے حضرت عمرؓ سے جس بات