صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 337 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 337

صحیح البخاری جلدی ۳۳۷ ۳- كتاب مناقب الأنصار رقم ابْغِنِي أَحْجَارًا أَسْتَنْفِضْ بِهَا وَلَا میں ابو ہریرہ۔ آپؐ نے فرمایا کہ میرے لئے چند تَأْتِنِي بِعَظْمٍ وَلَا بِرَوْثَةٍ فَأَتَيْتُهُ پتھر ڈھونڈ لاؤ، جن سے میں استنجا کروں۔ میرے بِأَحْجَارٍ أَحْمِلُهَا فِي طَرَفِ ثَوْبِي لئے بڑی نہ لانا اور نہ ہی لید۔ چنانچہ میں آپ کے حَتَّى وَضَعْتُ إِلَى جَنْبِهِ ثُمَّ انْصَرَفْتُ پاس اپنے کپڑے کے کنارے میں چند پتھر اُٹھا لایا حَتَّى إِذَا فَرَغَ مَشَيْتُ مَعَهُ فَقُلْتُ اور آپؐ کے پاس رکھ دیئے اور پھر میں ایک طرف مَا بَالُ الْعَظْمِ وَالرَّوْثَةِ قَالَ هُمَا مِنْ ہٹ گیا۔ یہاں تک کہ جب آپ فارغ ہوئے تو میں طَعَامِ الْجِنِّ وَإِنَّهُ أَتَانِي وَقْدُ جِنّ آپ کے پاس آیا اور میں نے پوچھا: ہڈی اور لید میں نَصِيْبِيْنَ وَنِعْمَ الْجِنُّ فَسَأَلُونِي الزَّادَ کیا بات ہے؟ کہ آپؐ نے ان کے لانے سے منع فَدَعَوْتُ اللهَ لَهُمْ أَنْ لَّا يَمُرُّوا بِعَظْمٍ فرمایا ہے) آپ نے فرمایا کہ یہ دونوں جنوں کی وَلَا بِرَوْثَةٍ إِلَّا وَجَدُوا عَلَيْهَا طُعْمًا۔ خوراک ہیں اور میرے پاس نصیبین کے جنوں کے طرفه: ۱۵۵ نمائندے آئے تھے وہ اچھے جن تھے۔ انہوں نے مجھ سے زاد راہ مانگا اور میں نے ان کے لئے اللہ سے یہ دعا کی کہ وہ جس ہڈی یا گوبر کے پاس سے بھی گزریں وہ ضرور اس میں اپنی خوراک پائیں۔ تشريح : ذكر الجن: :: كتاب بدء الخلق باب ۱۲ میں امام بخاری نے آیت يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ کا حوالہ دے کر اس طرف اشارہ کیا تھا کہ انسانوں کے دو طبقات ہیں: (۱) جن، (۲) انس۔ قرآن مجید میں انس کے مقابل پر جہاں جہاں لفظ جن استعمال ہوا ہے تو اس سے مراد غیر متمدن اقوام اور جابر لوگ ہیں۔ دونوں قسم کے لوگوں میں سے رسول آتے رہے تا اُن پر اتمام حجت ہو اور وہ ہدایت پائیں۔ تفصیل کے لئے کتاب بدء الخلق شرح باب ۱۲ نیز اس تعلق میں کتاب الصلوۃ باب ۷۵ روایت نمبر ۴۶۱ دیکھئے۔ روایت زیر باب میں جن سے مراد وہ مخلوق ہے جو نظروں سے پوشیدہ ہے اور اس میں حشرات الارض بھی شامل ہیں، جن کی خوراک لید اور گوبر اور ہڈیاں ہیں۔ خالق کا ئنات اور رب العالمین کی ربوبیت سب پر حاوی وساری ہے۔ قانون توالد و تناسل اور احیاء و امانت سے مشیت و تقدیر الہی ہر شئے کے لئے جس میں جان ہے، یکساں کار فرما ہے۔ حتی کہ جراثیم بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں اور یہ امر خالق کون و مکان کی وحدانیت و یکتائی پر دلالت کرتا ہے جس کی صحیح صحیح ترجمانی کرنے کی غرض سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت رسول رب العالمین مبعوث ہوئے ہیں اور آپ کی شفقت