صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 321 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 321

صحیح البخاری جلدی ۳۲۱ ۶۳- كتاب مناقب الأنصار الْأَيْمَانُ فَقَبِلَهُمَا وَجَاءَ ثَمَانِيَةً قسم کھائیں۔ اس اس حساب سے ہر ایک شخص کے حصے وَأَرْبَعُوْنَ فَحَلَفُوْا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ دو اونٹ آتے ہیں۔ یہ دو اونٹ لو اور مجھ سے یہ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا حَالَ الْحَوْل قبول کرو اور مجھے کرو اور مجھے قسم کیلئے اس جگہ مجبور نہ کرو جہاں حکما قسمیں لی جائیں گی۔ ابو طالب نے ان دو اونٹوں وَمِنَ الثَّمَانِيَةِ وَأَرْبَعِيْنَ عَيْنٌ تَطْرِفُ۔ کو منظور کر لیا اور اڑتالیس آدمی آئے اور انہوں نے قسمیں کھائیں۔ حضرت ابن عباس کہتے تھے : اسی ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ابھی ایک سال نہیں گزرا تھا کہ ان اڑتالیس آدمیوں میں سے ایک جھپکنے والی آنکھ بھی باقی رہی ہو۔ ٣٨٤٦ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۳۸۴۶ عبيد بن اسماعیل نے مجھ سے بیان کیا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ کہ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ( بن عروہ) سے ، ہشام نے اپنے باپ سے، ان قَالَتْ كَانَ يَوْمُ بُعَاثٍ يَوْمًا قَدَّمَهُ کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللهُ لِرَسُوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کی۔ کہتی تھیں: بعاث کی جنگ ایسی تھی کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فَقَدِمَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کی خاطر بطور پیش خیمہ بنایا تھا۔ رسول اللہ صلی ام صة الله يسلم علیہ وَسَلَّمَ وَقَدِ افْتَرَقَ مَلَؤُهُمْ وَقُتِلَتْ مدینہ میں آئے تو یہ حالت تھی کہ مدینہ والوں سَرَوَاتُهُمْ وَجُرِّحُوْا قَدَّمَهُ اللهُ لِرَسُوْلِهِ کی جمعیت پراگندہ ہو چکی تھی اور ان کے سردار صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دُخُولِهِمْ کچھ مارے جاچکے تھے اور کچھ زخمی تھے۔ اللہ تعالیٰ فِي الْإِسْلَامِ۔ اطرافه: ۳۷۷۷، ۳۹۳۰ نے اس جنگ کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بطور پیش خیمہ بنایا تا کہ وہ اسلام میں داخل ہو جائیں۔ ٣٨٤٧: وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا ۳۸۴۷ : (عبد اللہ بن وہب کہتے تھے کہ عمرو عَمْرُو عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَخِ أَنَّ ( بن حارث) نے بکیر بن از ن اشج سے روایت کرتے