صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 22
صحیح البخاری جلد ۲۲ باب ٤ : نِسْبَةُ الْيَمَنِ إِلَى إِسْمَاعِيْلَ یمن والوں کا حضرت اسماعیل کی طرف منسوب ہونا ۶۱ - كتاب المناقب مِنْهُمْ أَسْلَمُ بْنُ أَفْصَى بْنِ حَارِثَةَ بْنِ ان میں سے اسلم بن اقصیٰ بن حارثہ بن عمرو بن عامر بھی ہیں جو خزاعہ کی ایک شاخ تھے۔عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ مِنْ خُزَاعَةَ۔٣٥٠٧ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۳۵۰۷ مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحی سَلَمَةُ يَحْيَى عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا (قطان) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یزید بن ابی عبید سے روایت کی کہ حضرت سلمہ بن اکوع) رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسلم قبیلے کے پاس عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَسْلَمَ يَتَنَاضَلُوْنَ تشریف لے گئے جو منڈی میں تیر اندازی کر بِالسُّوْقِ فَقَالَ ارْمُوا بَنِي إِسْمَاعِيْلَ رہے تھے۔آپ نے فرمایا: اے اسماعیل کے فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا وَأَنَا مَعَ بَنِي بیٹو! تیر اندازی کرتے رہو۔کیونکہ تمہارا باپ فَلَانٍ لِأَحَدِ الْفَرِيقَيْنِ فَأَمْسَكُوا بھی تیر انداز تھا اور ان میں سے ایک فریق کے متعلق فرمایا کہ میں بنی فلاں کے ساتھ ہوں۔یہ سنتے ہی انہوں (یعنی دوسرے فریق) نے اپنے ہاتھوں کو روک لیا۔آپ نے پوچھا: انہیں کیا ہوا؟ کہنے لگے: ہم کیسے تیر پھینکیں جبکہ آپ بنی فلاں کے ساتھ ہیں۔آپؐ نے فرمایا: اچھا تیر پھینکو اور میں تم سبھی کے ساتھ ہوں۔بِأَيْدِيهِمْ فَقَالَ مَا لَهُمْ قَالُوْا وَكَيْفَ نَرْمِي وَأَنْتَ مَعَ بَنِي فُلَانٍ قَالَ ارْمُوْا وَأَنَا مَعَكُمْ كُلِكُمْ۔اطرافه : ۲۸۹۹، ۳۳۷۳۔شریح : نِسْبَةُ الْيَمَنِ إِلَى إِسْمَاعِيلَ : روایت زیر باب سے استدلال کی نسبت اختلاف ہے کہ بنو خزاعہ کس طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ذریت کہلا سکتے ہیں جبکہ وہ قحطانی تھے اور عدنانی معد بن عدنان کی نسل ابراہیمی سے ہیں جو بخت نصر شاہ بابل کے زمانہ میں تھا اور اس کے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے درمیان فاصلہ بعض کے نزدیک چار پانچ پشتوں کا ہے اور بعض کے نزدیک اس سے زیادہ کا۔امام ابن حجر