صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 308
صحیح البخاری جلدی ٣٠٨ ۳- كتاب مناقب الأنصار ۳۸۲۸ : وَقَالَ اللَّيْثُ كَتَبَ إِلَيَّ ۳۸۲۸ اور لیث نے کہا: ہشام نے مجھے اپنے باپ هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ ( عروہ) سے روایت کرتے ہوئے لکھ بھیجا۔ ان أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَتْ کے باپ نے حضرت اسماء بنت ابو ابو بکر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: میں نے زید بن رَأَيْتُ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ قَائِمًا عمرو بن نفیل کو دیکھا کہ کعبہ سے اپنی پیٹھ لگائے مُسْلِدًا ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ يَقُوْلُ يَا کھڑے ہیں۔ یہ کہہ رہے تھے: اے قریش کے مَعْشَرَ قُرَيْشٍ وَاللَّهِ مَا مِنْكُمْ عَلَى لوگو! اللہ کی قسم تم میں سے کوئی بھی ابراہیم کے دِيْنِ إِبْرَاهِيمَ غَيْرِي وَكَانَ يُحْيِي دین پر میرے سوا نہیں ہے اور زید بیٹیوں کو جیتا الْمَوْءُوْدَةَ يَقُولُ لِلرَّجُلِ إِذَا أَرَادَ أَنْ نہیں گاڑتے تھے۔ اس شخص سے جو اپنی بیٹی مارنا يَقْتُلَ ابْنَتَهُ لَا تَقْتُلْهَا أَنَا أَكْفِيكَ چاہتا، کہتے تھے: اسے نہ مارو۔ میں اس کا خرچ مَؤُنَتَهَا فَيَأْخُذُهَا فَإِذَا تَرَعْرَعَتْ قَالَ خوراک تمہاری جگہ مہیا کروں گا۔ چنانچہ وہ اس لِأَبِيْهَا إِنْ شِئْتَ دَفَعْتُهَا إِلَيْكَ وَإِنْ کو لے لیتے۔ جب وہ جوان ہو جاتی تو اس کے باپ شِئْتَ كَفَيْتُكَ مَوْنَتَهَا۔ سے کہتے : اگر تم چاہو تو میں اسے تمہارے سپرد کئے دیتا ہوں اور اگر چاہو تو میں اس کے سب کام پورے کر دوں گا۔ تشريح : حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُقیل: یہ حضرت عمر کے چا کے بیٹے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل توحید کو اختیار کر لیا تھا اور بتوں سے بیزار تھے۔ بلدح ایک جگہ کا نام ہے جو تنعیم کے راستے میں ہے۔ قَالَ مُوسَى حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَلَا أَعْلَمُهُ ۔۔۔ مذکورہ سند سے ہی موسیٰ بن عقبہ کی ضمنی روایت ہے۔ اسی طرح وَقَالَ اللَّيْثُ كَتَبَ إِلَى هِشَامٌ ۔۔۔ یہ قول بھی بطور تعلیق یعنی حاشیہ ہے اور ضمنی روایت ہے۔ مذکورہ بالا روایتوں سے ان کی نیک فطرت کا علم ہوتا ہے اور وہ مشرکانہ عادات سے بھی متنفر تھے۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ نبوت کیا تو وہ شام میں تھے ، سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کے لئے واپس آئے۔ لیکن اسی سفر میں وہ فوت ہو گئے تھے۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۱۸۱) وَأَنِّي أَسْتَطِيعُه ۔۔۔۔ يه جمله ۔ ۔۔۔ یہ جملہ حالیہ ہے اور مراد یہ ہے : وَالْحالُ أَنَّى لِي قُدْرَةً عَلَى عَدْمٍ حَمْلٍ ذلك۔ اس کے پیش نظر ترجمہ کیا گیا ہے۔