صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 309
صحیح البخاری جلدی ۳۰۹ ۶۳- كتاب مناقب الأنصار بَابِ ٢٥ : بُنْيَانُ الْكَعْبَةِ کعبہ کی تعمیر ۳۸۲۹ : حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ حَدَّثَنَا ۳۸۲۹ محمود بن غیلان) نے ہمیں بتایا کہ عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ عبد الرزاق نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ سَمِعَ ابن جریج نے مجھے خبر دی، کہا: عمرو بن دینار نے جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مُجھے بتایا۔ انہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ قَالَ لَمَّا بُنِيَتِ الْكَعْبَةُ ذَهَبَ النَّبِيُّ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ وہ کہتے تھے : جب کعبہ بنایا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبَّاسٌ گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عباس رقم دونوں پتھر ڈھونے لگے۔ حضرت عباس نے نبی يَنْقُلَانِ الْحِجَارَةَ فَقَالَ عَبَّاسٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْعَلْ إِزَارَكَ اپنی گردن پر ڈال لو تمہیں پتھروں کی تکلیف عَلَى رَقَبَتِكَ يَقِكَ مِنَ الْحِجَارَةِ فَخَرَّ سے کہا: تم اپنے تہہ بند کو سے بچائے گا۔ (آپ نے ایسا ہی کیا اور ) اسی إِلَى الْأَرْضِ وَطَمَحَتْ عَيْنَاهُ إِلَى وقت زمین پر گر پڑے اور آپ کی آنکھوں کی السَّمَاءِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ إِزَارِي إِزَارِي تلتکی آسمان کی طرف بندھ گئی۔ پھر جب آپ فَشَدَّ عَلَيْهِ إِزَارَهُ ۔ اطرافه: ۳۶۴، ۱۵۸۲ ہوش میں آئے۔ آپؐ نے فرمایا: میرا تہہ بند، میرا تہہ بند۔ چنانچہ آپؐ نے اپنا تہہ بند مضبوطی سے باندھا۔ ۳۸۳۰ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ۳۸۳۰: ابو نعمان (محمد بن فضل) نے ہم سے حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بیان کیا کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا کہ عمرو بن وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ قَالَا لَمْ يَكُنْ دینار اور عبید اللہ بن ابی یزید سے روایت ہے۔ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ان دونوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ وَسَلَّمَ حَوْلَ الْبَيْتِ حَائِطٌ كَانُوا میں بیت اللہ کے گرد چار دیواری نہیں ہوتی تھی۔ يُصَلُّوْنَ حَوْلَ الْبَيْتِ حَتَّى كَانَ عُمَرُ لوگ بیت اللہ کے اردگرد نماز پڑھا کرتے تھے۔